میرواعظ عمر فاروق اور متحدہ مجلس علماء کا سانحہ نشاط پر اظہارِ افسوس و مذمت

میرواعظ عمر فاروق اور متحدہ مجلس علماء کا سانحہ نشاط پر اظہارِ افسوس و مذمت

فحاشی، منشیات کا بڑھتا ہوا رحجان اوراخلاقی زوال کو معاشرتی انحطاط کی بنیادی وجہ

سرینگر / /فحاشی، منشیات کا بڑھتا ہوا رحجان اوراخلاقی زوال کو معاشرتی انحطاط کی بنیادی وجوہات قرار دیتے ہوئے مجرموں کو فوری اور عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کرنے کے سلسلے میں علمائے کرام کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق متحدہ مجلس علماء جموںوکشمیر کے امیر اعلیٰ میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور مجلس کے تمام سرکردہ اراکین نے نشاط سرینگر میں پیش آئے لرزہ خیز واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے جس میں ایک خانہ بدوش خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ بیان میں کہا گیاہے کہ یہ درندگی محض ایک فرد کے خلاف جرم نہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے گہرے اخلاقی اور روحانی بحران کی تکلیف دہ علامت ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے ذریعے فحاشی و عریانی کا پھیلاؤ، منشیات اور شراب نوشی کی وبا، اور کرپشن و حرص کی بڑھتی ہوئی دوڑنے ہماری اخلاقی بنیادوں کو شدید کمزور کر دیا ہے اوروہ اخلاقی قطب نما جو کبھی ہماری رہنمائی کرتا تھا، تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ ہم ایک ایسے معاشرے کے فرد ہیں جو اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے، جہاں انسانی جان، عزت اور حرمت کو اولین درجہ حاصل ہے۔ یہ المناک سانحہ ہمارے لیے ایک بیداری کی پکار ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر توبہ، غور و فکر، اور دین، اخلاق اور سماجی ذمہ داری کے راستے کی طرف لوٹنا ہوگا۔مجلس نے متاثرہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کی مغفرت اور جنت الفردوس میں بلند مقام کیلئے دعا کی اورحکام سے پْرزور مطالبہ کیا کہ اس سنگین جرم میں ملوث افراد کو فوری اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔