ہمیں بجلی نہیں، اندھیرے کے بل اداکرنے پڑتے ہیں

موسم سرما کی آمد سے قبل ہی بجلی نایاب ، لدرو گاؤں کے لوگ نالاں

متعلقہ محکمہ کے خلاف سراپا احتجاج ، لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مداخلت کی مانگ

سرینگر//موسم سرما کی آمد سے قبل ہی بجلی اور بیکار ٹرانسفارمروں کے خلاف وادی کے شمال وجنوب میں لوگ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ بیشتر علاقے سورج غروب ہونے کے بعد گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی نے سنگین رخ اختیا ر کر لیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق برقی رو کی عدم دستیابی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں آئے دن وادی کے اطراف واکناف میں صارفین پریشان ہوگئے ہیں۔وادی کے شما ل و جنوب کے علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی اور پینے کے پانی کی قلت پر لوگوں نے پی ڈی ڈی اور جل شکتی محکمہ کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکموں کو بار بار آگاہ کیا گیا کہ لوگوں کو تشدد پر اتر آنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے تاہم دونوں محکمے میں لوگوں کے آگاہ کرنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں اور جان بوجھ کر لوگوں کو مصائب ومشکلات میں مبتلا کرکے انہیں سڑکوں پر آنے کیلئے اکسا رہے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ لوگوں کے مسائل حل نہیں کر پا رہی ہے اور سرکار ان سے جواب طلب نہیں کر رہی ہے۔ ادھر جنوبی ضلع اننت ناگ کے قبضہ پہلگام کے لدرو گاؤں کے صارفین نے شکایت کی کہ ان کا علاقے سات دنوں سے گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے جبکہ لدرو گاؤں سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ لدرو میں شام کو چھ بجنے کے ساتھ ہی بجلی کی سپلائی غائب ہو جاتی ہے۔ تاہم بجلی کی عدم دستیابی کے باعث وہ سات دنوں سے زبردست مشکلات میں ہیں جبکہ محکمہ پی ڈی ڈی کو بار بار اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ اسب علاقے میں برقی رو ستیاب رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائے۔