electricity employees

موت کے سائے میں سسکتی زندگیاں انتظامی سردمہری کی شکار

5برسوں میں44 بجلی ملازمین دوران ڈیوٹی لقمہ اجل ،محفوظ پناہ گاہیںندارد

سرینگر//محکمہ بجلی میں حالیہ ایام کے دوران ملازمین کے حادثات کے شکار ہونے اوراموت سے عملے میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے جہاں عملے کو سیفٹی ٹولز کا استعمال کرنے اور حفاظتی غفلت پر صفرروادری کا کی ہدایت جاری کی ہے وہیں ملازمین نے سیفٹی ٹولز کی عدم دستیابی کا الزام عائد کیا ہے۔26جنوری کو بشیر احمد صوفی نامی ایک بجلی ملازم دوران ڈیوٹی ترسیلی لائن کی مرمت کے دوران نوشہرہ میں زخمی ہوا تھا اور ایک ہفتہ صورہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج رہنے کے بعد 2اور3فروری کی درمیانی شب کو زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔اس سے قبل11جنوری کو صورہ ریسونگ اسٹیشن میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے جونیئر لائن مین بلال احمد شاہ زخمی ہوا تھا اور10روز تک اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد22جنوری کو فوت ہوا۔۔ پچھلے 5 سالوں میںمحکمہ بجلی کے 44 عارضی اور مستقل ملازمین دوران ڈیوٹی افسوسناک طور پر جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حادثات سے بجلی ملازمین میں خوف و ہراس کی لہر پیدا ہوگئی ہے اور ایسا نظر آرہا ہے کہ موت کا فرشتہ برابر انکے تعاقب میں ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ5برسوں کے دوران44 ملازمین دوران ڈیوٹی لقمہ اجل بن گئے جبکہ گزشتہ 12برسوں کے دوران جموں کشمیر میں ترسیلی لائینوں اورٹرانسفارمروں کی مرمت کے دوران134 مستقل و عارضی ملازمین لقمہ اجل بن گئے جبکہ درجنوں جسمانی طور پر نا خیز ہوئے۔ سال2020میں6جبکہ2021میں4مستقل اور9ڈیلی ویجروں سمیت13ملازمین اور 2022 میں2مستقل اور10عارضی ملازمین سمیت12 بجلی ملازمین کے علاوہ 2023میں5 بجلی ملازمین کے علاوہ2024میں6ملازمین اور2025میںملازمین2 بجلی لائنوں کی مرمت کے دوران اپنی زندگی سے ہاتھو دھو بیٹھے۔ الیکٹرک ایمپلائز یونین کے صدرمشتاق احمد نجار کا کہنا ہے کہ2010کے بعد وادی میں75کے قریب مستقل و عارضی ملازمین ترسیلی لائنوں کی مرمت کے دوران جان بحق ہوئے جبکہ220زخمی ہوئے جن میں100کے قریب جسمانی طور پر نا خیز ہوئے۔بجلی ملازمین کی دوران ڈیوٹی موت کی زنجینئر کو توڑنے کیلئے کے پی ڈٰ سی ایل نے تمام عملے بشمول فیلڈ ورکروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہائی ٹینشن (ایچ ٹی) اور لو ٹینشن (ایل ٹی) ترسیلی لائنوں اور ریسیوینگ اسٹیشنوں پر کام کرتے وقت حفاظتی عملیاتی ضوابط کی سختی سے پیروی کریں اور ضروری حفاظتی سامان کا استعمال کریں۔ چیف انجینئر ڈسٹی بیوشن انجینئر عاقب سلطانہ دیوانے واضح کیا گیا ہے کہ ملازمین کو برقی ڈسچارج راڈوں، سیفٹی بیلٹوں، دستانو اور ہیلمٹوں (چِن اسٹرپ کے ساتھ) جیسے حفاظتی آلات کااستعمال کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملازم نے ان حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی، جس میں مالی جرمانے اور ممکنہ طور پر عہدے میںتنزلی بھی شامل ہوگی۔ ان کا کہنا ہے’’حالیہ حادثات اور اموات کے تناظر میں یہ اقدامات کام کرنے والے افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے کیے گئے ہیں‘‘۔سرکیولر میں، اسسٹنٹ انجینئروں اور جونیئر انجینئروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو حفاظتی عملیات اورکام کی اجازت(پرمٹ ٹو ورک) کی ضروریات پر عمل درآمد کرائیں۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بجلی بند کرنے کے دوران اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں گے اور ان کے دائرہ اختیار میں کسی بھی حادثے یا واقعہ کیلئے ذمہ دار ہوں گے۔بجلی ملازمین کا کہنا ہے کہ بیشتر فوت شدہ ملازمین یا تو عارضی ہوتے ہیں یا ’این پی ایس‘ اسکیم کے تحت آتے ہیں جن کا اہل و عیال بعد میں دانے دانے کو محتاج ہوتا ہے اور محکمہ کی جانب سے کوئی بھی معاونت نہیں ہوتی۔ الیکٹرک ایمپلائز یونین کے صدرمشتاق احمد نجار کا کہنا ہے کیہ سیفٹی ٹولز کا استعمال کرنا تو ٹھیک ہے تاہم سیفٹی ٹولز کا فقداں ہے اور وہ غیر معیاری بھی ہے۔نجار نے کہا کہ جہاں کہیں ایک ملازمین کو سیفٹی ٹولز کا ایک ہی سیٹ فرہم کیا گیا ہے وہیں جوتے سرے سے ہی دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس نظام کو بہتر کیا جاتا تو اس طرح کے حادثات کو روکا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ اموت پر تحقیقاتی کمیٹیوں کو تشکیل دیا جاتا ہے تاہم وہ بھی لاحاصل ہوتی ہے۔پائین شہر میں تعینات ایک بجلی لائن مین طارق احمدنے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران جو ترسیلی لائنیں نجی کمپنیوں نے بچھائی ہیں وہ بہت اونچی ہیں جبکہ محکمہ نے انہیں وہیں10سے15فٹ سیڑھیاں دستیاب ہیں،جس کی وجہ سے انہیںبجلی کھمبوں پر ایسے ہی چڑنا پڑتا ہے جو حادثات کا موجب بنتا ہے۔سیول لائنز میں تعینات عابد احمد نامی ملازم کا کہنا ہے کہ محکمہ کے پاس ملازمین اور عملے کیلئے تربیت کیلئے اگر چہ خصوصی فنڈس بھی موجود ہوتے ہیں تاہم انہیں بروائے کار نہیں لایا جاتا۔