ghulam ahmad mir

منشیات کے خلاف جامع پالیسی ناگزیر// غلام احمد میر

جموں و کشمیر میں نشہ مخالف مہم کو وسیع اور عوامی بنیادوں پر استوار کرنے کی اپیل

سرینگر// یو این ایس// کانگریس کے جنرل سیکریٹری غلام احمد میرنے جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی منشیات اور نشہ آور اشیاء￿ کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے ایک جامع اور مؤثر عوامی پالیسی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں کانگریس لیڈرنے کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور حالیہ نشہ مخالف مہم کے دوران اس کے خطرناک اثرات واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض مخصوص کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ہر قسم کی لت اور نشہ آور اشیاء کے خلاف وسیع سطح پر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔یو این ایس کے مطابق غلام احمد میر نے پولیس اور انتظامیہ کی جاری مہم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں قابل تعریف ہیں، تاہم صرف منشیات تک محدود رہنا کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب نوشی، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک سنگین سماجی اور صحت عامہ کا مسئلہ بن چکی ہے اور اس پر بھی اتنی ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے جتنی دیگر نشہ آور مادوں پر دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے شراب دکانوں پر مرحلہ وار پابندی کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں اور حکومت کو ان عوامی جذبات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ غلام احمد میر نے بہار اور گجرات جیسی ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شراب بندی پالیسی نافذ ہے جبکہ تمل ناڈو میں عوامی دباؤ کے بعد سینکڑوں شراب دکانیں بند کی گئی ہیں، خاص طور پر وہ دکانیں جو مذہبی مقامات، تعلیمی اداروں اور گنجان آبادی والے علاقوں کے قریب واقع تھیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی دیگر ریاستیں عوامی مفاد میں اصلاحی اقدامات کر سکتی ہیں تو جموں و کشمیر میں بھی شراب کی غیر محدود دستیابی اور تشہیر پر سنجیدہ مشاورت شروع کی جا سکتی ہے، خاص طور پر حساس اور کمزور علاقوں میں۔کانگریس رہنما نے کم عمر بچوں کو سگریٹ اور تمباکو مصنوعات کی آسان دستیابی پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ تعلیمی اداروں کے قریب ان مصنوعات کی فروخت پر پابندی سے متعلق قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اسکولوں، کالجوں، مذہبی مقامات اور نوجوانوں کی آمد و رفت والے عوامی مقامات کے اطراف شراب اور تمباکو مصنوعات کی فروخت پر سخت نگرانی کی جائے اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔یو این ایس کے مطابق غلام احمد میر نے کہا کہ اس مسئلے کو صرف آمدنی کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے طویل مدتی سماجی، اخلاقی اور صحت عامہ سے متعلق اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حوالے سے بنائی جانے والی ہر پالیسی عوامی مشاورت، مقامی ثقافتی اقدار اور جموں و کشمیر کی حساس روایات کو سامنے رکھ کر مرتب کی جانی چاہیے۔انہوں نے سماجی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، والدین، نوجوانوں کے گروپوں اور پالیسی ساز اداروں سے اپیل کی کہ وہ مل کر ایک صحت مند اور نشہ سے پاک معاشرہ قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں کیونکہ نوجوان نسل کا مستقبل تمام فریقوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔