عوامی دربار کا اِنعقاد ، ہمہ جہت ترقی ، سکیموںکی مکمل کوریج اور فلاحی اَقدامات کے باہمی اِشتراک پر زور
کٹھوعہ// کمشنر سیکرٹری اِنفارمیشن، پلاننگ، ڈیولپمنٹ و مانیٹرنگ ڈیپاٹمنٹ، آر ایلس ویزجنہیں وائبرنٹ وِلیج پروگرام دوم (وِی وِ ی پی۔دوم) کے تحت سرحدی دیہات بوبیا اور گجنال کی ذِمہ داری تفویض کی گئی ہے، نے آج بوبیا گاؤں کا دورہ کیا اور شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان سرحدی گائوں کی ترقیاتی ضروریات کا جائزہ لینے کے لئے ایک عوامی دربار منعقد کیا۔ اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وائبرنٹ وِلیجز پروگرام کا مقصد سرحدی گائوں مکمل اوردیرپا ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس پروگرام کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر اور رابطہ سڑکوں، صحت، تعلیم، روزگار اور ڈیجیٹل رسائی جیسے شعبوں میں موجود کمیوںکی نشاندہی کر کے ترقیاتی خلا کو پُر کرنا ہے ۔آرایلس ویز نے اِس بات پر زور دیا کہ جاری مرکزی معاونت والی سکیموں( سی ایس ایس) اور یو ٹی وریاستی معاونت والی سکیموں کے باہمی اِشتراک اور مکمل عمل آوری بھی پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اُنہوں نے مقامی باشندوں سے اپیل کی کہ وہ مجوزہ کاموں کے ہموارعمل آوری کے لئے ضلعی اِنتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔کمشنر سیکرٹری موصوفہ نے انفرادی استفادہ کنندگان کی سکیموں کی مکمل عمل آوری پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لئے بالخصوص جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) اور مشن یووا کے ساتھ مرکزی و ریاستی معاونت والی سکیموں کے مؤثر اِشتراک کو یقینی بنانے پر زور دیا۔اِس سے قبل گائوں بوبیا کے سابق پنچایتی راج اِداروں (پی آر آئی) کے اراکین نے دیہات کے ترقیاتی منصوبے کی تیاری کے دوران ضلعی اِنتظامیہ کی جانب سے جامع اور عوامی شمولیت پر مبنی منصوبہ بندی کی مشق کو سراہا۔اِس موقعہ پر وائبرنٹ وِلیج بوبیا کے نوڈل آفیسر اور بی ڈی او مرہین جاوید اقبال اور وائبرنٹ وِلیج گجنال کے نوڈل آفیسر و تحصیل دار مرہین لیکھ راج نے بوبیا اور گجنال دیہات کے مجوزہ ترقیاتی منصوبے عوام کے سامنے پیش کئے۔بعد کمشنر سیکرٹری نے متعلقہ ضلعی اور شعبہ جاتی افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی جس میں مجوزہ ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ اُنہوں نے جے پی ڈِی سی ایل ، جے اے اِی ڈِ ی اے ، دیہی ترقی محکمہ، سوشل ویلفیئر، زراعت، جل جیون مشن اورپی ایم جی ایس وائی کے تحت جاری سکیموں کی صورتحال کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں تاکہ کمیوںکی نشاندہی کی جا سکے اور ان گائوںمیں مکمل سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ایلس ویز نے فلاحی سکیموں اور سکل ڈیولپمنٹ کے مواقع سے متعلق بیداری کیمپ منعقد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ان دور افتادہ سرحدی علاقوں کے اہل مستحقین تک زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچ سکیں۔اِس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ راجیش شرما نے کمشنر سیکرٹری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع کٹھوعہ میں کل 216 سرحدی دیہات ہیں جن میں سے زیرو لائن کے قریب واقع چھ دیہات’ بوبیا، گجنال، رتھوا، کرول کرشنا، کڈیالہ اور گوجر چک ‘ کو وائبرنٹ وِلیج پروگرام۔دوم کے تحت شامل کیا گیا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ مسودہ منصوبہ تیار کرنے کے لئے مقامی باشندوں سے وسیع پیمانے پر رابطہ کیا گیا اورموجودہ بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکموں نے مقامی آبادی کے ساتھ متعدد میٹنگ منعقد کئے تاکہ ان کی تجاویز کو شامل کر کے منصوبہ بندی کے عمل کو جامع اور عوامی شرکت پر مبنی بنایا جا سکے۔سب ڈویژنل مجسٹریٹ ہیرانگر، پھلیل سنگھ نے اَپنے استقبالیہ خطاب میں ہیرانگر سب ڈویژن کے سرحدی علاقوں کا خاکہ پیش کیا اور بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع دیہات کی تزویراتی اہمیت کو اُجاگر کیا۔










