مغربی ایشیا میں امن کیلئے بھارت ہر ممکن تعاون کو تیار// وزیر اعظم نریندر مودی

مغربی ایشیا میں امن کیلئے بھارت ہر ممکن تعاون کو تیار// وزیر اعظم نریندر مودی

سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت مغربی ایشیا میں امن کے قیام کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یو اے ای نے جس تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔وزیر اعظم مودی نے یہ بات جمعہ کو ابوظہبی میں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ یہ ملاقات وزیر اعظم کے پانچ ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں ہوئی، جس میں وہ متحدہ عرب امارات کے علاوہ نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا بھی دورہ کریں گے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اور بھارت خطے میں امن اور استحکام کیلئے ہر ممکن تعاون دینے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے یو اے ای پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو اس طرح نشانہ بنانا درست نہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ ہندوستان مغربی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات متحدہ عرب امارات کے صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔وزیر اعظم مودی اور یو اے ای صدر کے درمیان یہ اہم ملاقات مودی کے ابوظہبی پہنچنے کے فوراً بعد ہوئی۔ یہ دورہ اْن کے پانچ ملکی غیر ملکی دورے کا پہلا مرحلہ ہے، جس میں چار یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یو اے ای کو جس طرح نشانہ بنایا گیا، وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے موجودہ کشیدہ صورتحال میں یو اے ای کی جانب سے تحمل اور بردباری کے مظاہرے کو قابل ستائش قرار دیا۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اور عالمی معیشت، توانائی سپلائی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔مودی کا ابوظہبی ایئرپورٹ پہنچنے پر خود یو اے ای صدر نے استقبال کیا، جسے اس دورے کی اہمیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔وزیر اعظم مودی نے بعد میں سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں یو اے ای صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سرمایہ کاری، سپلائی چین اور دیگر اہم شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کے منتظر ہیں۔۔مودی نے کہا، ‘‘جس طرح یو اے ای کو نشانہ بنایا گیا وہ ناقابل قبول ہے، تاہم موجودہ صورتحال کو یو اے ای نے جس صبر اور تحمل سے سنبھالا، وہ قابل ستائش ہے۔‘‘ وزیر اعظم مودی کا ابوظہبی ہوائی اڈے پر خود یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے استقبال کیا، جسے اس دورے کی اہمیت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شیخ محمد بن زاید النہیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان توانائی، سرمایہ کاری، سپلائی چین اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے بات چیت کے منتظر ہیں۔دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی چھ روزہ غیر ملکی دورے پر روانہ ہو گئے ہیں جس کے دوران وہ پانچ ممالک کا دورہ کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق اس دورے کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ذرائع کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث توانائی سپلائی، تجارت اور عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اس دورے کے اہم نکات میں شامل ہوں گے۔ ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان مائع پیٹرولیم گیس اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے شعبے میں دو اہم معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ دونوں رہنما تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔یو اے ای بھارت کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران وہ بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والے بڑے ممالک میں شامل رہا ہے۔متحدہ عرب امارات کے بعد وزیر اعظم مودی نیدرلینڈز جائیں گے جہاں وہ شاہ ولیم الیگزینڈر، ملکہ میکسیما اور وزیر اعظم روب جیٹن سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں دفاع، سکیورٹی، گرین ہائیڈروجن، سیمی کنڈکٹر، آبی تعاون اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔اس کے بعد مودی سویڈن جائیں گے جہاں وہ سویڈش وزیر اعظم الف کرسٹرسن کے ساتھ دو طرفہ تعلقات، مصنوعی ذہانت ابھرتی ٹیکنالوجی، دفاع، خلائی تعاون اور ماحولیات سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔وزیر اعظم ناروے میں تیسرے انڈیا،نورڈک سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے جہاں ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن کے رہنما شریک ہوں گے۔اپنے دورے کے آخری مرحلے میں مودی اٹلی جائیں گے جہاں وہ وزیر اعظم جارجیا میلونی اور صدر سرجیو ماتاریلا سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، دفاع، صاف توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔اس دوران یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو برکس ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ سفارت کاروں سے ملاقات کی، جب کہ نئی دہلی میں برکس گروپ کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اہم اجلاس شروع ہوا۔وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے وفود میں روس کے وزیر خارجہ سرگے لاروایران کے عباس عراقچی برازیل کے مارو ویریاانڈونیشیا کے سگی نواور جنوبی افریقہ کے رونالڈ لامولاشامل تھے۔ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ برکس ممالک اس وقت مغربی ایشیا کے بحران، توانائی سپلائی میں شدید رکاوٹوں اور امریکہ کی تجارتی و ٹیرف پالیسیوں کے معاشی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ہندوستان اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں ستمبر میں منعقد ہونے والے سالانہ سربراہی اجلاس سے قبل یہ دو روزہ وزارتی اجلاس نئی دہلی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر خارجہ ایس جے شنکر کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ برکس گروپ ابتدا میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تھا، تاہم 2024 میں مصر، ایتھوپیا، ایران اور متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کیا گیا، جبکہ 2025 میں انڈونیشیا نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔برکس دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک اہم اتحاد تصور کیا جاتا ہے، جو عالمی آبادی کے تقریباً 49.5 فیصد، عالمی جی ڈی پی کے 40 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً 26 فیصد حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔