petrol

چار سال بعد پٹرول و ڈیزل مہنگا،3روپے کا اضافہ

تیل کمپنیوں کے خسارے کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق، مہنگائی پر اثرات کا خدشہ

سرینگر// یو این ایس//پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ چار سال کے دوران پہلی بڑی تبدیلی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مطابق یہ اضافہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ریفائنری شعبے پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابقدہلی میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے سے بڑھ کر 97.77 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 89.67 روپے سے بڑھ کر 90.67 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اسی طرح ممبئی میں پٹرول 106.68 روپے اور ڈیزل 93.14 روپے فی لیٹر، کولکتہ میں پٹرول 108.74 روپے اور ڈیزل 95.13 روپے فی لیٹر جبکہ چنئی میں پٹرول 103.67 روپے اور ڈیزل 95.25 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود مقامی سطح پر قیمتیں مستحکم رکھی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپریل 2022 کے بعد سے تقریباً منجمد تھیں، جبکہ صرف مارچ 2024 میں عام انتخابات سے قبل معمولی کمی کی گئی تھی۔ اس سے قبل آخری بڑا اضافہ اپریل 2022 میں کیا گیا تھا۔عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔رپورٹس کے مطابق عالمی خام تیل کی قیمتیں بعض اوقات 120 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جبکہ تنازع سے قبل یہ 70 سے 72 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں۔ حالیہ دنوں میں قیمتیں نسبتاً کم ہو کر 104 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں تاہم یہ سطح اب بھی بلند تصور کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق آئل کمپنیوں کو بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث بھاری مالی دباؤ کا سامنا تھا۔ سرکاری آئل کمپنیوں کو پٹرول پر فی لیٹر 14 روپے اور ڈیزل پر 42 روپے تک نقصان رپورٹ کیا گیا، جبکہ ایل پی جی شعبے میں بھی خسارہ برقرار رہا۔ماہرین کے مطابق اگرچہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں براہ راست مہنگائی کے اشاریے میں شامل نہیں ہوتیں، تاہم ان کے اثرات بالواسطہ طور پر معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور اشیاء کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے سے مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا بوجھ عام صارفین پر پڑتا ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آنے والے دنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی صورتحال مستحکم نہ ہونے کی صورت میں مزید دباؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔