امول کے بعد مدر ڈیری کے دودھ میں بھی ابال، 2 روپے بڑھ گئے دام
سرینگر // صارفین پر مہنگائی کا ایک اور طوجھ ڈالتے ہوئے امول کے بعد مدر ڈیری نے بھی انتخابی نتائج سے عین قبل دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ دودھ کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ گزشتہ 15 ماہ میں اخراجات میں اضافہ بتایا گیا ہے۔ سھی قسم کے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ پیر (3 جون) سے دہلی-نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) کے ساتھ ساتھ دیگر بازاروں میں بھی نافذ ہو گیا ہے۔سی این آئی کے مطابق دودھ کی صنعت کے بڑے برانڈ امول نے اتوار کو قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ان دونوں بڑے دودھ سپلائروں نے لوک سبھا انتخابات کے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ مدر ڈیری نے بیان میں کہا کہ وہ 3 جون 2024 سے اپنے مائع دودھ کی قیمتوں میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کر رہی ہے۔ اس نے کہا کہ صارفین کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر پروڈیوسروں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کی تلافی کیلئے ہے، جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے بڑھ رہی ہے۔دہلی-این سی آر میں مدر ڈیری کا فل کریم دودھ اب 68 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا، جب کہ ٹونڈ اور ڈبل ٹونڈ دودھ بالترتیب 56 روپے اور 50 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ بھینس اور گائے کے دودھ کی قیمتیں بالترتیب 72 روپے اور 58 روپے فی لیٹر ہوں گی۔ ٹوکن دودھ (تھوک دودھ) 54 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جائے گا۔مدر ڈیری فی الحال دہلی این سی آر میں روزانہ 35 لاکھ لیٹر تازہ دودھ فروخت کرتی ہے۔ کمپنی نے آخری بار فروری 2023 میں دودھ کی خوردہ قیمتوں میں تبدیلی کی تھی۔










