sajad lone

عمر عبداللہ کے احتجاج پر سجاد لون کا سوال

دہلی میں امیت شاہ سے ملاقات کو ’تھیٹر آف دی ابسرڈ‘ قرار دیا

سرینگر/ یو این ایس / جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے 2 ستمبر کو سرینگر میں احتجاج میں شرکت اور اس کے دو روز بعد نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات پر سوال اٹھاتے ہوئے دونوں واقعات کو ’’تھیٹر آف دی ابسرڈ‘‘ قرار دیا ہے۔سجاد لون نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے وقت کے انتخاب کا کوئی احساس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 ستمبر کو سرینگر میں نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نظر آئے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دونوں جماعتوں کے سینئر رہنما ہجوم کے درمیان راستہ بناتے، گاڑیوں پر چڑھتے اور نعرے لگاتے دکھائی دیے۔ سجاد لون کے مطابق ان مناظر سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سیاسی قیادت بھرپور مزاحمت اور جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے انہیں بھی لگا کہ شاید دہلی کے ’’جن زی‘‘ احتجاج کی طرز پر کوئی بڑا مظاہرہ دہرایا جانے والا ہے۔تاہم سجاد لون نے کہا کہ انہیں اس وقت حیرت ہوئی جب 4 ستمبر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ کو 4 ستمبر کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ خوشگوار انداز میں ملاقات کرنی تھی تو پھر 2 ستمبر کو سرینگر میں احتجاج اور سیاسی مظاہرے کا حصہ بننے کی کیا ضرورت تھی؟سجاد لون نے کہا کہ اگر عمر عبداللہ نے 4 ستمبر کو دہلی میں امیت شاہ کے ساتھ ملاقات کرنی تھی تو 2 ستمبر کو سرینگر میں اس طرح کے احتجاج اور سیاسی سرگرمی میں شامل ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔پیپلز کانفرنس کے صدر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا سیاسی قیادت کو اس تضاد کا احساس ہے اور کیا اس طرح کی سیاسی حکمت عملی ان کے اپنے ساتھیوں اور عوام تک پہنچائے جانے والے پیغام کو کمزور نہیں کرتی۔انہوں نے کشمیر میں احتجاج کے سیاسی ادارے کی مبینہ ’’منظم تنزلی‘‘ پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں احتجاج نے کئی معاشی اور سیاسی انقلابات کو جنم دیا ہے، لیکن کشمیر میں احتجاج کے ادارے کو اس حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے کہ اب اس کی اصل شناخت ہی باقی نہیں رہی۔سجاد لون نے کہا کہ کشمیر میں احتجاج کو محض تصویری نمائش تک محدود کر دیا گیا ہے اور اسے عوامی مسائل کے اظہار اور سیاسی دباؤ کے ایک مؤثر ذریعہ کے بجائے فوٹو سیشن بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے سیاسی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عام فہم بات بظاہر اتنی عام نہیں رہی اور اجتماعی طور پر یہ سمجھنے میں بھی ناکامی دکھائی دے رہی ہے کہ کون سا طرز عمل اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔