سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر کے ڈوڈہ اور رام بن اضلاع میں الگ الگ واقعات کے دوران چناب دریا میں ڈوبنے والے ایک نوجوان اور ایک خاتون کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں افراد کے دریا میں ڈوبنے کا خدشہ ہے۔حکام نے بتایا کہ ڈوڈہ میں 21 سالہ پائل دیوی نے ہفتہ کی سہ پہر پریم نگر کے قریب شیوہ دل پل سے مبینہ طور پر چناب دریا میں چھلانگ لگا دی، جبکہ رام بن میں 20 سالہ روی کمار یکم ستمبر کو میترا کے مقام پر تیز بہاؤ کی زد میں آکر دریا میں گر گیا تھا۔پائل دیوی کے اہل خانہ کے مطابق وہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار تھی۔ واقعے سے قبل وہ ایک میلے میں گئی تھی اور بعد میں اس نے اپنے والد کرشن لال کو فون کرکے بتایا کہ طبیعت خراب محسوس ہونے کے باعث وہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنے جارہی ہے۔والد کے مطابق ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے پر وہ واپس آرہی تھی اور راستے میں مبینہ طور پر ایک موٹر سائیکل پر سوار ہوگئی۔ بعد میں اس کے ساتھ موجود ایک شخص نے کرشن لال کو فون کرکے بتایا کہ ان کی بیٹی دریا کی جانب بھاگ گئی ہے۔کرشن لال کے مطابق اس دوران ان کی بیٹی نے کہا کہ کوئی بھی اس کے قریب نہ آئے۔ والد نے فون پر اس سے بار بار پوچھا کہ آخر کیا ہوا اور کیا کسی نے اس کے ساتھ کچھ کہا یا کیا ہے۔ اس پر اس نے مبینہ طور پر جواب دیا کہ ’’نہیں پاپا، یہ میری اپنی زندگی ہے۔ میرا دل کہتا ہے کہ مجھے اسی راستے پر جانا چاہیے۔‘‘ اس کے بعد اس نے ’’بائے بائے پاپا‘‘ کہا اور فون منقطع ہوگیا۔حکام کے مطابق پائل دیوی کی تلاش کے لیے پولیس، ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور مقامی رضاکاروں کی اضافی ٹیمیں بھی کارروائی میں شامل ہوگئی ہیں۔ امدادی اہلکاروں نے چناب کے کناروں اور زیریں حصوں میں وسیع پیمانے پر تلاش کی، تاہم تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔دوسری جانب رام بن کے میترا علاقے میں یکم ستمبر کو چناب دریا میں بہہ جانے والے روی کمار کی تلاش بھی مختلف اداروں کی مشترکہ کوششوں سے جاری ہے۔رام بن کے ڈپٹی کمشنر محمد الیاس خان اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون گپتا نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے جاری تلاش و بچاؤ کارروائیوں کا جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اختیار کیے گئے لائحہ عمل پر بھی غور کیا۔حکام کے مطابق دریا میں پانی کے تیز بہاؤ اور خطرناک حالات کے پیش نظر ماہرین نے کشتیوں کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ تلاش کے لیے خصوصی امدادی آلات اور تربیت یافتہ اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ تمام ضروری حفاظتی اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کی مداخلت کے بعد بگلیہار پن بجلی منصوبے کے حکام نے امدادی کارروائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دریا میں پانی کے بہاؤ کو محدود کردیا ہے۔










