سری نگر//وادی کشمیر کے معروف شاعر، ادیب اور صحافی مقبول ویرے کی دوسری برسی کے موقعے پر سیٹ نرسنگ اینڈ پیرا میڈیکل کالج میں مراز رائٹرز اینڈ آرٹسٹس گلڈ، مراز ادبی سنگم اور سیٹ پیرا میڈیکل اینڈ نرسنگ کالج کی طرف سے ایک پر وقار تقریب کا انعقاد ہوا.جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور قلم کاروں نے شرکت کی۔تقریب کے دوران ہفتہ روزہ ندائے کشمیر میں شامل گوشہء مقبول ویرے کی رسم رونمائی بھی انجام دے گئی۔اطلاعات کے مطابق زاہد مختار، اعجاز غلام محمد لالو، ڈاکٹر محمد شفیع ایاز اور ظفر فاروق صلاتی تقریب کے ایوان صدارت میں تشریف فرماں تھے۔ تقریب کی پہلی نشست میں نظامت کے فرائض رئیس جاں نثار نے انجام دئے۔ تقریب میں وادی سے آئے ہوئے قلم کاروں، ادیبوں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز رشید صدیقی صاحب نے نعت شریف سے کیا اور ویرے صاحب کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ مہمانوں کا استقبال راجہ یوسف نے کیا۔ جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض رئیس جاں نثار نے انجام دی۔ ایس معشوق احمد نے مقبول ویرے کی ادبی خدمات پر مقالہ پڑھا۔ انہوں نے اپنے مقالہ میں ویرے صاحب کے افسانوی اور شعری خدمات پر مفصل روشنی ڈالی۔ مقبول ویرے کا شمار کشمیر کے بہترین اردو شعراء اور صحافیوں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے 1980 سے اپنے ادبی سفر کے شروعات کئے اور بہت ہی کم مدت میں کشمیر کے اردو شعراء میں اپنا مقام حاصل کیا۔ لیکن کمزور مالی حالت کے پیش نظر انہوں صحافت کا پیشہ اختیار کیا اور اسکے ادبی سفر کی رفتار بہت سست ہوئی۔ انہوں نے اپنا ایک شعری مجموعہ خود ترتیب دیا تھا لیکن زندگی نے ان سے بے رخی اختیار کی اور وہ شعری مجموعہ شائع نہ ہوا۔ ان کے شعری مجموعہ کی اشاعت کء ذمہ داری مشہور و معروف شاعر زاہد مختار نے اپنے ذمہ لی تھی لیکن اب تک وہ شعری مجموعہ منظر عام پر نہ آیا۔ مقبول ویرے ایک بہترین افسانہ نگار بھی تھے اور کشمیری زبان میں بھی شاعری لکھی۔ ایون صدارت میں بیٹھے معزز ممہمانان نے مقبول ویرے کی زندگی اور ان کے ادب پاروں پر مدلل تقاریر کئے۔ مہمانوں نے اپنے تاثرات بیان کئے اور اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں ہفتہ روزہ ندائے کشمیر میں شامل ” گوشہء مقبول ویرے ” کی رسم رونمائی بھی انجام دے دی گئی۔ گوشہء مقبول ویرے کشمیر کے مشہور و معروف افسانہ نگار اور قلم کار راجہ یوسف نے ترتیب دیا ہے۔ جس کے رسم رونمائی کے فرائض ہفتہ ندائے کشمیر کے چیف ایڈیٹر معراج الدین فراز نے انجام دئے۔ عمران یوسف نے تقریب میں مقبول ویرے کی کشمیری غزل کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ علی شیدا نے جموں سے فوبائل فون پر میسج بھیج کر مقبول ویرے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا مرحوم مقبول ویرے گونا گون صلاحتیوں کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت صحافی، فکشن نگار اور شاعر تھے۔ زندہ دل، ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔میں تمام شرکاء احباب، خاص کر مراز ادبی سنگم تنظیم سے وابستہ ممبران کا شکر گزار ہوں جو نا موافق موسمی حالات کے باوجود آج مرحوم ویرے صاحب کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لئے منعقدہ مجلس میں تشریف فرما ہوئے۔اور مرحوم کو شاندار طریقے سے یاد کیا۔ تقریب میں عطا محمد میر، کلیم بشیر، ریاض انزنو، بشیر اندرابی، ولایت حسین وار کے علاوہ متعدد قلم کاروں اور ادیبوں نے شرکت کی۔نمائندے کے مطابق تقریب کی دوسری نشست میں ایک مشاعرہ کا بھی انعقاد ہوا جس میں وادی بھر سے آئے شعرا نے شرکت کی۔ جن میں خاص کر منظور خالد، ڈاکٹر شیدا حسین شیدا، گلزار احمد وار، ڈرائیور غلام محمد، شبیر حسین شبیر، ساغر جاوید، عرفانی سجاد وید، سید مسعود ہاشم،کے علاوہ کئی شعرا نے شرکت کی۔ مشاعرہ کی صدارت عبد الاحد اور شبیر حسین شبیر نے کی۔ مشاعرہ میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر شیدا حسین شیدا نے انجام دئے۔










