جموں و کشمیر میں صورتحال مستحکم ہے تو بار بار سیکورٹی جائزہ اجلاسو ں کی کیا ضرورت ہیں / محبوبہ مفتی
سرینگر // مرکز میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت سے مسئلہ کشمیر کے تئیں حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کا مظاہرہ کرنے اور جموں و کشمیر میں دیرپا امن قائم کرنے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر بھی زور دیا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں اور ان کی توقعات پر پورا اتریں ۔ سی این آئی کے مطابق پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مرکز میں موجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت سے مسئلہ کشمیر کے تئیں حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں نچلی سطح پر راحت پہنچانے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا ’’ مرکز میں بی جے پی زیرقیادت حکومت نے سال 2016-17میں علیحدگی پسندوں سے بات چیت کے لیے وفد جموں و کشمیر بھیجا لیکن بدقسمتی سے وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ علیحدگی پسندوں کا خیال تھا کہ پتھراؤ اور عمارتوں کو آگ لگانے سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ آج میں بی جے پی حکومت سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ علیحدگی پسندوں کے طرز عمل سے گریز کرے جو انہوں نے 2016 میں ظاہر کیا تھا، اور جموں و کشمیر میں دیرپا امن کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ اگر جموں و کشمیر میں صورتحال مستحکم اور کنٹرول میں ہے تو وزیر داخلہ امت شاہ اور لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا بار بار سیکورٹی جائزہ اجلاس کیوں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ’’کشمیریوں کے زخموں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، اور زیر سماعت نوجوانوں کو باہر کی جیلوں سے جموں و کشمیر کی جیلوں میں منتقل کرنے جیسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے والدین ان سے مل سکیں‘‘۔ محبوبہ نے کہا کہ من مانی گرفتاریاں بھی ختم ہونی چاہئیں اور کشمیر کے دونوں اطراف کو جوڑنے والی سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی توقعات پر پورا اترے۔ محبوبہ مفتی نے کہا ’’ لوگ توقع کر رہے تھے کہ منتخب حکومت کے بعد ملازمین کی برطرفی ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پولیس کانسٹیبل فردوس احمد جسے کل ان کی خدمات سے برطرف کر دیا گیا تھا کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔ وہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں زخمی ہوا تھا،۔ اس کے بعد سے وہ قمرواری سرینگر میں اپنے خاندان کے ساتھ گھر پر پڑا ہے، لیکن کل ملک مخالف سرگرمیوں کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں انہیں برطرف کر دیا گیا۔‘‘










