سری نگر//مرکزی سرکار نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے کیلئے مخصوص ٹائم لائن دینے سے قاصر ہے لیکن واضح کیا کہ یونین ٹیریٹری کا درجہ عارضی ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق دفعہ370اور35Aکی منسوخی نیز جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کوختم کرکے اسے 2یونین ٹریٹریوںمیں تقسیم کئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوںکی سماعت کے 13ویں روز سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کے سامنے کہا کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیرمیں کسی بھی وقت انتخابات کیلئے تیار ہے۔ انہوںنے کہاکہ ووٹر لسٹ اور دیگر کام تقریباً مکمل ہوچکے ہیں ،اور اب ریاستی الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا کہ انتخابات کب ہوں گے۔سالیسٹر جنرل نے کہاکہ مرکز کی جانب سے جموں وکشمیرکو دوبارہ مکمل ریاست بنانے کیلئے کام میں پیش رفت ہورہی ہے ،تاہم اس کیلئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیاجاسکتا ہے ۔مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ3 انتخابات ہونے والے ہیں۔ پہلی بار تین درجے پنچایت راج نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ سب سے پہلے پنچایتوں کے انتخابات ہوں گے۔ لیہہ ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور کارگل کے لیے ستمبر میں ہوں گے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتانے ، مرکز کی طرف سے پیش ہوئے سپریم کورٹ کوپھر بتایا کہ وہ جموں و کشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کے لیے تیار ہے۔مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ2018 سے2023 کے مقابلے میںملی ٹنسی کے واقعات میں45.2 فیصد کمی آئی ہے اور دراندازی میں90 فیصد کمی آئی ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا کا کہنا تھا کہ قانون و نظم کے مسائل جیسے پتھر بازی وغیرہ میں 97 فیصد کمی آئی ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 65 فیصد کمی آئی ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ 2018 میں پتھراؤ کے واقعات1767 تھے، اب یہ کوئی نہیں ہے۔ 2018میں منظم بند کی تعداد 52 تھی اور اب یہ صفر ہے۔اس موقعہ پر ایک عرضی گزار کے قانونی صلاح کارایڈووکیٹ کپل سبل نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ اگر آپ کے گھر میں 5000 لوگ نظر بند ہیں اور دفعہ 144 کے ساتھ کوئی بند نہیں ہو سکتا۔تاہم انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ ہمیں اس میں نہ ڈالیں، ورنہ ہمیں ان سب کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس نے سالیسٹر جنرل کے بیان کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ کیا کہہ رہے ہیں کہ مکمل ریاست کا روڈ میپ کچھ وقت لگے گا، یونین ٹریٹری ایک مستقل خصوصیت نہیں ہے اور کوئی ٹائم لائن نہیں ہو سکتی،لیکن یہ وہ اقدامات ہیں جو وہ اٹھا رہے ہیںلیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ حقائق آئینی سوال پر جواب نہیں ہو سکتے۔کپل سبل نے کہاکہ منشیات کا مسئلہ جس سے جموں و کشمیر دوچار ہے بہت بڑا ہے اور یونین ٹریٹری میں بے روزگاری کی بہت زیادہ شرح ہے۔انہوںنے کہاکہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ٹیلی ویڑن پر دکھایا جا رہا ہے اور یہ سب ریکارڈ پر ہے، وہ اسے ایسا بنا دیتے ہیں کہ ساری حکومت کیا کر رہی ہے؟۔سالیسٹر جنرل تشار مہتانے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ : ترقی کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اس دوران چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہاکہ آئینی مسئلہ کو صرف آئینی زاویے سے نمٹا جائے گا نہ کہ پالیسی فیصلوں کی بنیاد پر۔










