جی ایم سی بارہمولہ میں ایچ اے ڈِی پی کے تحت ایم آر ڈی رجسٹریشن سینٹر اور ہائی ٹیک پولی گرین ہائوس کا اِفتتاح
بارہمولہ// مرکزی وزیر مملکت برائے مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم اَنٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای)، محنت و روزگار شوبھا کرندلاجے نے ڈاک بنگلو بارہمولہ میں نیتی آیوگ کے اسپریشنل ڈِسٹرکٹ پروگرام (اے ڈِی پی) کے مختلف اشاریوں کے تحت ضلع کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ممبر قانون ساز اسمبلی بارہمولہ جاوید حسن بیگ،ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ منگا شیرپا، وزارتِ ایم ایس ایم ای، محنت و روزگار کے اَفسران اور متعلقہ محکموں کے تمام افسروں نے شرکت کی۔میٹنگ کے شروعات میںضلع ترقیاتی کمشنربارہمولہ منگا شیرپا نے اے ڈِی پی کے 5 اہم اشاریوں بشمول صحت و تغذیہ، تعلیم، زراعت اور آبی وسائل، مالیاتی شمولیت اور ہنرمندی کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے تحت ضلع کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔وزیر موصوف کو جانکاری دی گئی کہ نیتی آیوگ کے ذریعے جاری اَپنی کردہ ڈیلٹا رینکنگ میں قابل ذِکر ترقی کی ہے اور نمایاں طور پر بہتری لائی ہے اور ستمبر 2024 ء تک 59.3 کا مجموعی سکور حاصل کرتے ہوئے 112 اَضلاع میں سے 108 ویں مقام سے 46 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ نے صحت اور غذائیت میں نمایاں بہتری پر روشنی ڈالی جس میں موجودہ سہولیات کو اَپ گریڈ کرنا اور نئے صحت مراکز کا قیام ، زچہ و بچہ کی صحت نگہداشت ، نوزائیدہ اور زچگی اَموات کی شرح میں کمی ، ٹی بی کے معاملات میں کمی اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لئے پوشن ابھیان کا مؤثر نفاذ شامل ہے۔وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ بارہمولہ میں تعلیمی شعبے میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور لڑکیوں میں طالب علموں کے اِندراج میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اَساتذہ کے لئے مہارت کی اَپ گریڈیشن ، سکول کے بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے اور سمارٹ کلاس روموںکے نفاذ کے ساتھ ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دینے سے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ساتھ سکول چھوڑنے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔دریں اثنا، جاوید احمدبیگ نے خطے میں پانی کی قلت اور دیگر ترقیاتی چیلنجوں سے متعلق متعدد مسائل بھی اُٹھائے اور ان کے بروقت حل کے لئے وزیر مملکت سے مداخلت کی درخواست کی۔مرکزی وزیر نے زراعت، مالیاتی شمولیت ، ہنرمندی کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے تحت ضلع کا تفصیلی جائزہ لیا اور بارہمولہ کی پیش رفت کی ستائش کی اور جامع اِقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں اس کے اہم رول پر زور دیا۔دورانِ میٹنگ وزیر مملکت برائے ایم ایم ایس ایم اِی نے بات کرتے ہوئے محکمہ صحت کے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ضلع میں نوزائیدہ اور زچگی کی شرح اَموات کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کے لئے جامع تحقیق کریں اور شرح اَموات میں مزید کمی کو یقینی بنانے کے لئے ہدفی مداخلتوں پر عمل درآمد کریں جس سے صحت نگہداشت کے مجموعی نتائج میں بہتری آئے گی۔مرکزی وزیرمملکت نے اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ مختلف سرکاری سکیموں کے ذریعے خطے میں فوڈ پروسیسنگ یونٹوں کی عمل آوری کے لئے منصوبہ بندی کرے تاکہ مقامی طور پر تیار کردہ سیبوں کے مؤثر اِستعمال کو یقینی بنایا جاسکے اور طویل فاصلے تک ٹرانسپورٹیشن کے دوران کسی بھی قسم کے ضیاع کو روکا جاسکے جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور کسانوں کو فائدہ ہوگا۔دریں اثنا ،شوبھا کرندلاجے نے ضلع انتظامیہ کی کوششوں کی ستائش کی اور اَفسروں پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی پروجیکٹوں پر عمل آوری میں تیزی لائیں بالخصوص وہ جو ایم ایس ایم ایز، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ذریعہ معاش بڑھانے میں مدد کرتے ہیں اور اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی اور ٹارگٹیڈ مداخلت کے ذریعے اسپریشنل اضلاع میں مجموعی ترقی کے لئے مرکزی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔میٹنگ میں شوبھا کرندلاجے نے پنچایتی راج اِداروں (پی آر آئیز) اور سکولوں کو کمپیوٹر، سمارٹ بورڈ اور دیگر سہولیات سمیت مختلف ضروری وسائل تقسیم کئے جس کا مقصد کمیونٹی کی بہتری کے لئے اُن کی مجموعی فعالیت کو بڑھانا ہے۔شوبھا کرندلاجے نے بارہمولہ کے دورے کے دوران چکلو میں 500 مربع میٹر رقبے پر پھیلے ایک ہائی ٹیک پولی گرین ہاؤس کا اِفتتاح کیا جسے مقامی کسان ڈاکٹر مدثر علی کو ایچ اے ڈی پی سکیم کے ذریعے 95 فیصد سبسڈی پر منظور کیا گیا تھا۔بعد میں، وزیرمملکت نے ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ منگا شیرپا کے ہمراہ گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں ایسوسی ایٹیڈ ہسپتال میں اسپریشنل ڈسٹرکٹ پروگرام کے حصے کے طور پر اینڈو یورولوجیکل آلات کا اِفتتاح کیا۔وزیر موصوف نے اَپنے دورے کے دوران تیمارداروں سے بات چیت کی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی صحت سہولیات کے بارے میں قیمتی رائے حاصل کی۔










