مرکزی اسکیموں میں3ہزار کروڑ روپے کے باقیات

مرکزی وزارتوں سے واگزاری کی ٹائم لائن آج تک مقرر

سرینگر///حکومت نے انتظامی سیکریٹریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ مرکزی معاونت والی اسکیموں میں مرکزی وزارتوں سے اضافی3ہزار کروڑ روپے کی واگزاری کی پیروی کریں۔وائس آف انڈیا کے مطابق لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی بجٹ میٹنگ کے جائزے کے دوران انتظامی سیکریٹریوں کو رواں مال سال کے آخر31مارچ تک مرکزی وزارتوں سے ان رقومات کی واگزاری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ ان محکموں میں تعمیرات عامہ کو350کروڑ روپے،جبکہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کو621کروڑ روپے،محکمہ جل شکتی کو600کروڑ،محکمہ تعلیم کو250کروڑاور محکمہ مکانات و شہری ترقی کو112کروڑ روپے کی واگزاری کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔میٹنگ کی تفصیلات(منٹس آف میٹنگ) کے مطابق محکمہ سماجی بہبود کو200کروڑ،محکمہ صحت و خاندانی بہبود کو100کروڑ،محکمہ جانور و افزئش بھیڑو15کروڑ،محکمہ باغبانی کو30کروڑمحکمہ زراعت کو80کروڑ،محکمہ قانون کو12کروڑ اور محکمہ جنگلات کو10کروڑ روپے کی واگزار کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی۔اس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ حکومت ترقی کے صحیح راستے پر گامزن ہے اورما لیاتی انتظام میں احتیاط کو برقرار رکھنے کے علاوہ بہتر حکمرانی، ترقی، کارکردگی پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے اخراجات میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے جبکہ ڈیلروں کی رجسٹریشن میں اضافے اور گوشوارے پیش کرنے میں نظم و ضبط کے ساتھ ٹیکس ریونیو کی وصولی میں اچھی بہتری آئی ہے۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کو صحیح تناظر میں لاگو کیا جانا چاہئے کیونکہ ان سے محصولات کے اخراجات کو محدود کرنے میں مدد ملی ہے جس سے سرمائے کے اخراجات کے لئے مزید گنجائش پیدا ہوئی ہے جو پچھلے 4 سالوں میں دوگنا ہو گیا ہے۔منٹس آف میٹنگ کے مطابق لیفٹنٹ گورنر نے انتظامی سیکریٹریوں اور محکموں کے سربراہوں پر زور دیا کہ وہ مرکزی معاونت والی اسکیموں کی طرف توجہ مبذول کریں اور مرکزی وزارتوں کے ساتھ بروقت رقومات کی واگزاری کیلئے پیروی کریں۔ جل شکتی محکمے کو اپنے صارفین کی تعداد میں اضافہ کرنے، جل جیون مشن کے تمام نئے صارفین کی بلوں، اور محصول کی بروقت وصولی پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا جبکہ محکمہ تعلیم و فروغ ہنر پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی فیس کو تعلیم میں کیے جانے والے فی طالب علم کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیں۔ سیاحت اور فلوریکلچر کے محکموں کو اپنی آمدنی کے اہداف کو پورا کرنے کے علاوہ اضافی ریونیو کی وصولی کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ محکمہ بجلی کو سمارٹ میٹرنگ کے کاموں کو مکمل کرنے نقصان میں کمی اور وزارت خزانہ کے ساتھ کیے گئے پاور ریونیو کے اہداف کو پورا کرنے پر زور دیا گیا۔ محکموں کو صارفین سے پینے کے پانی کے فیس، کان کنی اور ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے محصولات کو بہتر بنانے کی تاکید کی گئی۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ای مارکیٹنگ،سیلف ہلپ گرپوں اور چھوٹی و درمیانہ درجے کی صنعتوںسے خریداری کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو ایک مربوط نظام تیار کرنا چاہیے۔محکمہ صحت کے سیکریٹری کو سرکاری اسپتالوں میں وزیر اعظم صحت اسکیم کے تحت مریضوں کی کو دائرے میں لانے کے علاوہ زیر داخل مریضوں میں90سے95فیصد بیماروں کو اس اسکیم کا استفادہ کرنے کی حکمت عملی اپانے کی تاکید کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو گرانٹس، داخلی وسائل اور مختلف مرکزی ایجنسیوں سے بیرونی گرانٹس کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط نگرانی کا نظام تیار کرنا چاہیے۔