اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، یومِ آزاد منانے پرآزاد کلچرل فورم اور کلچرل اکیڈیمی کی سراہنا کی
سرینگر // یوم عبدالاحد آزاد کی مناسبت سے متعدد مقامات پر تقریبات ،سمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں عبدالاحد آزاد کی انقلابی شاعری اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف گوشوں پردانشوروں اورمحققین نے روشنی ڈالی ۔کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق مرحوم عبدالاحد آزاد کی 122ویں برسی کے موقعے پرجموں اینڈکشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجزنے آزاد کلچرل فورم چاڈورہ کے باہمی اشتراک سے ٹیگور ہال سرینگر میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں جموں و کشمیر لیجسلیٹو اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجودتھے ۔ جبکہ ان کے ہمراہ ساہتیہ اکیڈیمی کے کنوینر پروفیسر شادرمضان بطور مہمان ذی وقار تھے ۔ تقریب کا افتتاح روایات اور ثقافت کو برقرار رکھتے ہوئے عبدالرحیم راتھر نے اسبند سوزی سے کیا۔تقریب کے آغاز میں ایڈیشنل سیکریٹری کشمیر کلچرل اکیڈیمی عدیل سلیم نے خطبہ استقبال پیش کرکے مہمانوں کاوالہانہ استقبال کیا اورکہا کہ عبد الاحد آزاد کی یاد میں یہ تقریب ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ادب اور شاعری ہماری ثقافت اور شناخت کو محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔تقریب پر فوک گلوکار گلزار احمد گنائی اور فیروز احمد شاہ نے اپنی ٹیموں کے ہمراہ عبدالاحد آزاد کا کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔تقریب میں نامور براڈ کاسٹراور ادیب و شاعر،محقق شمشاد کرالہ واری نے عبدالاحد آزادپر ایک مکالماتی مضمون پیش کیا جو اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا اورجسے سامعین کی طرف سے خاص پذیرائی حاصل ہوئی اوران کے مضمون سے عبدالاحد آزاد کی شخصیت آشکار ہوئی ۔ تقریب پرمعروف اسکالر ،شاعر اور نقاد ڈاکٹر واحد رضا نے بھی عبدالاحد آزاد کی شاعری اور ادبی خدمات پر مبنی مفصل مقالہ پیش کیا۔جس سے سامعین محظوظ ہوئے ۔تقریب کے دوران اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر کو شال پوشی کی گئی اور ایڈیشنل سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی عدیل سلیم، شمشاد کرالہ واری، پرفیسر شاد رمضان، ظہور سلطان اور قیوم کشمیری کو اعزاز سے نوازا گیا۔تقریب پر مرحوم عبدالغنی پرواز کو بعداز مرگ ’’خلعتِ آزاد‘‘ ایوارڈ عطا کیا گیا جسے اُنکے فرزندنواز پرواز نے حاصل کیا۔تقریب پر دو کتابوں کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی گئی۔اسمبلی کے سپیکر رحیم راتھر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبدالاحد آزاد کی شاعری اور تنقید نے نہ صِرف ہماری نسلوں کو متاثر کیا بلکہ ہمارے ادب کو بھی نئی وُسعتوں اور گہرائیوں سے متعارف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے زمانے میں انسانیت کی بقاء کیلئے جس تخلیق کاری کا مظاہرہ کیا وہ موجودہ دور کے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔انہوں نے قوم وملت کوبلالحاظ مساوات قائم رکھنے کی تلقین کی ہے جس سے اسکیولرازم دوام پاتی ہے ۔انہوں نے شمشاد کروالہ واری کے مکالماتی مضمون کو اپنی نوعیت کا ایک مثالی مضمون قرار دیا ۔انہوں نے کلچرل اکیڈیمی اور آزاد کلچرل فورم کا عبدالاحد کی یاد میں تقریب منعقد کرنے پر دونوں اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کلچرل اکیڈیمی کی کاوشوں کی سراہنا کی۔ انہوں نے عبدالاحد آزاد کی تصنیفات کے نئے ایڈیشن کو منظرعام پر لانے کی ہدایت دی اور ضرورت پڑنے پر ذاتی معاونت کا یقین دلایا جبکہ آزادکلچرل فورم کی لائبرری قائم کرنے کی تجویز پر بھی یقین دلایا کہ وہ شروعات کریں اورضرورت کے مطابق ہم بھی مدد کریں گے ۔آزاد کے نام ٹکٹ اجراء کرنے کی تجویز پر عبدالرحیم راتھر نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ ممبران کے ذریعے اس مسئلے کو ایوان پارلیمان میں اٹھائیں گے ۔تقریب کی دوسری نشست میں محفلِ مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، مشاعرے کی صدارت معروف ادیب، شاعر، نقاد، ترجمہ کار پروفیسر شاد رمضان نے ۔ اپنے صدارتی خطبہ میں شاد رمضان نے کلچرل اکیڈیمی کے ایڈیشنل سیکریٹری عدیل سلیم کی انتظامی صلاحیتوں کی سراہنا کی ۔انہوں نے عبدالاحد اذاد کی شخصیت اوران کی شاعری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم شخص تھے ۔ تقریب میں ادباء ، شعراء،دانشور ،اور عبدالاحد آزاد کے مداحوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف براڈکاسٹر رشید نظامی نے انجام دئے جبکہ ساہتیہ اکادمی کشمیری ایڈوائزری بورڈ کے ممبر رئوف عادل نے مہمانوں، اور دیگر حاضرین و ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔










