محکمہ جنگلات میں جنگلات کی آگ کیلئے مشترکہ کنٹرول روم قائم کئے جائیں گے

محکمہ جنگلات میں جنگلات کی آگ کیلئے مشترکہ کنٹرول روم قائم کئے جائیں گے

جموںوکشمیر میں جنگلا تی آتشزدگی کیلئے ایس او پی جاری

جموں//کمشنرسیکرٹری محکمہ جنگلات و ماحولیات شیتل نندا نے آج جنگلات میں آتشزدگی کے اِنتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹس سریش گپتا، چیف وائلڈ لائف وارڈن سرویش رائے، ایڈیشنل پی سی سی ایف ٹی رابی کمار، ڈائریکٹر فارسٹ پروٹیکشن فورس سندیپ کجور، سیکرٹری فارسٹ ڈیپارٹمنٹ پردیپ کمار، چیف کنزرویٹر آف فارسٹس جموں/کشمیر اور دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ صوبہ کشمیر میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ رہتا ہے اور حالیہ موسم سرما میں کم بارش کے باعث آگ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ قدرتی وجوہات کے علاوہ بعض شرپسند عناصر بھی جنگلوں میں جان بوجھ کر آگ لگاتے ہیں۔ محکمہ قدرتی عوامل کی بناپر لگنے والی آگ کو قابو پانے کے لئے احتیاطی اَقدامات کر رہا ہے اور ان مجرموں کے خلاف کارروائی بھی کی جا رہی ہے جو جان بوجھ کر جنگلات کو نذر آتش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں 8 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن کی تحقیقات پولیس کر رہی ہے۔پرزنٹیشن کے دوران بتایا گیا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ سے متاثرہ مجموعی طور پر جنگلات کے کل رقبے کا بہت کم حصہ ہے اور نقصان صرف زمینی آگ تک ہی محدود ہے اور اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ تاہم، محکمہ جنگلاتو ماحولیات کی پوری ٹیم اس مسئلے پر قابو پانے اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کو کم کرنے میں مصروف عمل ہے۔مزید بتایا گیا کہ صوبہ جموںمیں عام طور پر اپریل سے جون کے گرم اور خشک موسم میں جنگلاتی آتشزدگی کے واقعات پیش آتے ہیں اور محکمہ پہلے ہی مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کر چکا ہے۔ کمشنر سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ محکمہ کو آگ بجھانے کے بجائے آگ سے بچاؤ کے اقدامات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنگلاتی آتشزدگی سے نمٹنے کے لئے ایک مفصل ایس او پی (سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) تیار کیا جا رہا ہے جس میں آگ کے خطرے کی درجہ بندی، احتیاطی تدابیر جیسے کہ آگ سے بچاؤ کی حد بندی، آگ سے نمٹنے کی تیاری، رسپانس پروٹوکول، جدید ٹیکنالوجی کے اِستعمال، مقامی آبادی کی شمولیت اوربیداری مہمات شامل ہوں گی۔ اِس ایس او پی میں فائر رسپانس ٹیموں کی تشکیل، آگ بجھانے کے آلات کی تفصیلات اور رپورٹنگ میکانزم کے فارمیٹ کو بھی شامل کیا جائے گا۔ کمشنر سیکرٹری نے ہدایت دی کہ ایس او پی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے ماضی کے آتشزدگی کے واقعات پر مبنی ہیٹ میپ اور کے ایم زیڈ میپنگ کا اِستعمال کیا جائے۔یہ فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ طریقۂ کار کے تحت قائم مختلف کنٹرول روموں کو ختم کر کے مشترکہ کنٹرول رومز بنائے جائیں گے تاکہ وسائل کا مؤثر اِستعمال ممکن ہو سکے۔ یہ مشترکہ جنگلاتی آتشزدگی کنٹرول رومز ان علاقوں میں قائم کئے جائیں گے جہاں آتشزدگی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان کنٹرول روموں میں تربیت یافتہ عملے کو جنگلاتی تحفظ فورس، محکمہ وائلڈ لائف اور دیگر متعلقہ اداروں سے منتخب کر کے تعینات کیا جائے گا اور انہیں جدید آلات سے لیس کیا جائے گا۔کمشنرسیکرٹری نے صوبائی فارسٹ اَفسران( ڈِی ایف اوز) کو فوری طور پر ڈیوٹی روسٹرز جاری کرنے کی ہدایت دی۔ اِس کے علاوہ آن لائن رِپورٹنگ کا ایک مؤثر نظام تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ فیلڈ ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوامی سطح پر بیداری مہمات کو مؤثر بنائیں تاکہ جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کو روکا جا سکے۔