وادی کے شہر ودیہات میں دکاندار ،کاریگر اورچھاپڑی فروش پریشان حال ،موجودہ انتظامیہ کیلئے غور طلب!
سرینگر //جموں وکشمیر بالخصوص وادی میں گذشتہ دو تین برسوں سے لوگ ابتر مالی حالت کے شکار ہیں ۔جس کے نتیجے میں حالات معمول پر آنے کے باجود بھی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہیں ۔کیونکہ دکان کھلے ہیں اور بازاروں میں کاریگر ،دکاندار ،پٹری والے اور چھاپڑی فروش خریداروں کی راہیں دن بھر تکتے رہتے ہیں ۔ لیکن خریداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔اگر چہ بازاروں میں لوگوں کی گہماگہمی ہے اور عام لوگوں کا یہ تاثر ہے کہ بازاروں میں اس رش کے بیچ خریداری بھی اچھی ہے لیکن ان کا یہ گمان صرف ایک دھوکہ ہے جبکہ حالات بالکل اس کے برعکس ہیں ۔ان حالات سے تاجر اور کاریگر کافی پریشان حال ہیں ۔کیونکہ ان کی تمام نظریں اپنے کاروبار پر ہی مرکوز ہوتی تھیں اور ان کے خرچات کا پورا بجٹ دکانات یاان کے اپنے ٹھکانوں سے حاصل ہوتا تھا لیکن حالات نے کروٹ بدلی اور وہ قرضداروں کے قرضہ جات چکانے سے بھی اب قاصر ہیں ۔جہاں وہ اپنے اہل وعیال کو عیش وآرام کی زندگی فراہم کرتے ہیں وہیں اب نہ وہ گھریلو خرچات پورا کرسکتے ہیں اور نہ دکانوں یا پٹریوں کا کرایہ ادا کرسکتے ہیں ۔کیونکہ وہ جو یومیہ کماتے ہیں اوراس مہنگائی کے دور میں وہ دو وقت کی روٹی بھی دستیاب رکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کی ٹیم نے سرینگر کے لال چوک میں کئی دکانداروں ،پٹری والوں اور کاریگروں سے بات کی تو مجموعی طور انہوں نے حالات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف دن گذاری کیلئے اپنی دکانیں یا پٹریاں کھولتے ہیں ۔ کیونکہ خریداری نہ ہونے کے برابر ہے ۔تجارت کے متاثر ہونے کے سلسلے میں جب بازار میں موجود دکانداروں اور کاریگروں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جموں وکشمیر کی تشکیل نو کے بعد ان کاروزانہ کام متاثر ہوا ہے اور کہا کہ اگر چہ اس کے بعد حالات معمول پر آئے تھے لیکن پھر کوروناوائرس نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ کرایہ ادا کرسکتے ہیں اور نہ ہی کام کرنے والے کاریگروں یا سیلز مینوںکی تنخواہیں اور کہا کہ بیشتر سیلز مینز کو یا تو فارغ کرنا پڑایاوہ دکان چھوڑ کر ہی چلے گئے اور بے روزی گاری سے ذہنی کوفت کے شکار ہیں جبکہ بجلی فیس میں اضافہ کیا گیا ہے وہ اس کی ادائیگی سے قاصر ہیں کیونکہ جب ان کے پاس آمدنی کے ذرایعے ہی محدود ہوگئے تو وہ کہاں سے لائیں گے ؟ اس ضمن میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برسوں کے نقصان کی بھرپائی کرنے کیلئے ٹھوس اقدام اٹھاتے ہوئے خاص پیکیج فراہم کئے جائیں اور بجلی ،پانی ودیگر سہولیات کے فیس میں کمی لائی جائے اور ٹیکسیز کو کم کیا جائے ۔دکانداروں کے بنک قرضوں اور شرح سود میںرعایت دی جائے اور تجارت کو پٹری پر لانے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ تجارت وکاروباری سرگرمیاں ایک بار پھر سے بحال ہوسکیں گے ۔










