مالدیپ کے صدر کا ملک میں موجود بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کو نکالنے کا عزم

مالدیپ کے منتخب صدر محمد معیزو نے رواں ہفتے منصب سنبھالنے کے بعد اپنے ملک سے بھارتی فوج کو نکالنے کے عزم ظاہر کیا ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خطے میں توازن کی تشکیل نو نہیں کرنا چاہتے اور بھارتی فوج کے مالدیپ سے نکلنے کے بعد اس کی جگہ چین کی فوج نہیں لے گی۔
محمد معیزو کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مالدیپ میں موجود 50 سے 75 سیکیورٹی اہل کاروں کے انخلا کے لیے نئی دہلی سے رسمی بات چیت کا آغاز کریں گے۔
معیزو کا کہنا تھا کہ انہیں بھارتی سیکیورٹی اہل کاروں کو ہٹانے کا مینڈیٹ حاصل ہے جو بھارت کی جانب سے مالدیپ کی وسیع سمندری حدود کی نگرانی کے لیے دیے گئے تین طیاروں کو آپریٹ کر رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو انٹرویو میں محمد معیزو کا کہنا تھا کہ مالدیپ ایک بہت چھوٹا ملک ہے اس لیے جیو پولیٹیکل مسابقت میں پڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بحرِ ہند میں جزیروں پر مشتمل ملک مالدیپ کو خطے میں مختلف عالمی قوتوں کے اسٹیکس کے اعتبار سے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ رواں برس ستمبر میں صدر معیزو کے انتخاب کے بعد بڑی تبدیلی کی توقع کی جارہی ہے۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی صدارتی انتخابی مہم میں مالدیپ پر بھارت کا اثر و رسوخ کم کرنے اور خاص طور پر بھارتی افواج کو ملک سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی فوج کے نکلنے کے بعد ان کی جگہ چین یا کسی اور ملک کی فوج کو نہیں آنے دیں گے۔
انہوں نے بیجنگ سے اپنی قربت کے تاثر کو بھی مسترد کیا ہے۔
ان کا اصرار ہے کہ وہ صرف ’پرو مالدیپ‘ ہیں۔ اور وہ بھارت، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ پینتالیس سالہ محمد معیزو جمعے کو دارالحکومت مالے میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔مالدیپ اپنے صاف ستھرے ساحلوں اور ریزورٹس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مہنگے سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ مالدیپ جیوپولیٹیکل اعتبار سے ہاٹ اسپاٹ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مالدیپ میں خطِ استوا پر 800 کلومیٹر کے علاقے پر پھیلے 1192 جزائر شامل ہیں جو دنیا میں مشرق سے مغرب کے درمیان سمندری راستوں کے قریب واقع ہیں۔
محمد معیزو کو سابق صدر عبداللہ یامین کا نمائندہ تصور کیا جاتا ہے جو 2018میں اپنی انتخابی شکست تک تیزی سے مالدیپ کو چین کے دائرۂ اثر میں لے کر آئے تھے۔
علاقائی مسابقت
ان کا کہنا ہے کہ عوام نے انہیں اس لیے ووٹ نہیں دیا کہ وہ کسی بھی ملک کی فوج کو مالدیپ میں رہنے دیں۔ اس لیے ہم بھارتی حکومت سے اپنے اہل کار واپس بلانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ محمد معیزو کے بقول انہیں یقین ہے کہ وہ یہ ہدف پُرامن اور جمہوری انداز میں حاصل کرلیں گے۔صدر کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی اہل کاروں کو اس لیے جانے کا نہیں کہہ رہے کہ ان کی جگہ کسی اور ملک کے فوجی اہل کار لائیں گے۔بھارت ایک علاقائی قوت کے طور پر تین لاکھ 80 ہزار مسلمانوں کی آبادی رکھنے والے ملک مالدیپ کو اپنے دائرۂ اثر میں تصور کرتا ہے۔ تاہم سابق صدر یامین کے دور میں چین کی مالدیپ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور رسوخ کی وجہ سے بھارت کو تحفظات ہیں۔نئی دہلی اور مالے کے درمیان پیچیدہ تعلقات کی ایک تاریخ ہے۔ بھارت 1988 میں حکومت کا تختہ الٹنے کے دوران ایک بار پہلے بھی اپنی فوج مالدیپ میں تعینات کرچکا ہے۔