لیفٹیننٹ گورنر نے اِنڈین سوسائٹی آف ایگری کلچرل اِنجینئرز کے 60ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے اِنڈین سوسائٹی آف ایگری کلچرل اِنجینئرز کے 60ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کیا

ایسی ٹیکنالوجی تیار کریں جو حقیقی کھیتوں ، مون سون کے مشکل حالات اور کسانوں کے محدود بجٹ میں مؤثر ثابت ہو

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اِنڈین سوسائٹی آف ایگری کلچرل اِنجینئرز (آئی ایس اے اِی) کی 60ویں سالانہ کنونشن سے خطاب کیا جس کی مشترکہ میزبانی شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (سکاسٹ) کشمیر نے کی۔اُنہوں نے معزز مہمانوں کا والہانہ اِستقبال کرتے ہوئے آئی ایس اے اِی کوملک کی خدمت کے چھ دہائیوں مکمل کرنے پر مُبارک باد دِی اور ملک کی سرکردہ زرعی یونیورسٹیوں میں سکاسٹ کشمیر کے اہم کردار کی ستائش کی۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں کنونشن کے موضوعات ’’سمارٹ فارمنگ میں خواتین کی قیادت میں اِنجینئرنگ اِختراعات‘‘اور ’’جین زیڈفارمنگ کے لئے آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اور روبوٹکس‘‘ کی اہمیت کواُجاگر کی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ موضوعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان خوراک کی حفاظت کے چیلنجوں پر قابو پانے سے آگے بڑھ کر عالمی زراعت میں قائدانہ کردار سنبھالنے کی طرف گامزن ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر اَپنے بھرپور زرعی ورثے اور دُشوار گزار خطوں کے ساتھ اس طرح کے مباحثوں کے لئے سب سے موزوں ترین مقام ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے 1960 میںآئی ایس اے اِی کے آغاز سے لے کر اَب تک زرعی اِنجینئرنگ کے سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے یاد دِلایا کہ سائنس دانوں اور اِنجینئروں نے میکانائزیشن اور اختراعات کے ذریعے سبز اِنقلاب میں اَپنا کردار اَدا کیا جس سے فصل کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کیا گیا ۔اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور دیرپا کاشتکاری جیسے عصری چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ان کامیابیوں سے تحریک حاصل کریں۔اُنہوں نے زراعت میں خواتین کے کلیدی کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دیہی خواتین کی اَفرادی قوت کا تقریباً 64 سے 76 فیصد حصہ کاشتکاری اور متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف ہے ، اکثر انہیں نہ اجرت ملتی ہے اور نہ ہی زمین کی ملکیت۔ اُنہوں نے خواتین اِختراع کاروں کو بااِختیار بنانے اور زرعی ٹیکنالوجی میں ان کی قیادت کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔ اُنہوں نے اِداروں اور نجی شعبے کے شراکت داروں سے کہاکہ وہ خواتین کی قیادت میںسٹارٹ اپس کی معاونت کریں اور ایسی لیبارٹریاں، فیلوشپس اور انکوبیشن پلیٹ فارمز قائم کریں جو دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین اِنجینئروں کی تربیت دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’زرعی ٹیکنالوجی میں خواتین کی قیادت میںسٹارٹ اپس کو اسی اعتماد کے ساتھ مالی معاونت ملنی چاہیے جس اعتماد کے ساتھ کسی بھی دوسرے سٹارٹ اپ کو ضروری مدد اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے اِنجینئرنگ کالجز اور زرعی یونیورسٹیاں انہیں ٹیکنالوجی کی قیادت کے عہدوں تک پہنچنے کے لئے فعال طور پر پروان چڑھائیں۔ ایسی لیبارٹریاں، فیلوشپس اور انکوبیشن پلیٹ فارمز بنائے جانے چاہئیں جہاں کشتواڑ یا کپواڑہ کے کسی گاؤں کی نوجوان خاتون اِنجینئر یا سائنس داں اَپنے آئیڈیا کو ایک قابل اعتبار سفر کے ذریعے مارکیٹ کے لئے تیار پروڈکٹ میں ترقی کرتے ہوئے دیکھ سکے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیاکہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اور روبوٹکس کو اس طرح تیار کیا جانا چاہیے کہ ان کی بنیاد میں قابلِ استطاعت اور رَسائی ہو۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ اِختراعات صرف بڑے زمیندار کسانوںتک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ چھوٹے اور پسماندہ کسانوں تک پہنچنا چاہیے جوکہ ہندوستان کی کاشتکار کمیونٹی کا تقریباً 86 فیصد حصہ ہیں۔ اُنہوں نے ایسے ٹولز کی وکالت کی جو کم بینڈوڈتھ والے دیہات میں عام سمارٹ فونز پر چل سکیں نیزفارمر پروڈیو سر آرگنائزیشنز( ایف پی اوز) کے ذریعے اِجتماعی ملکیت کے ماڈلز کی بھی حمایت کی۔منوج سِنہا نے ڈرونز، آئی او ٹی پر مبنی سینسرز اور مشین لرننگ ماڈلز کی مثالیںپیش کیں جو پہلے ہی زراعت کو تبدیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے اختراع کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ کانفرنس ہالز کو متاثر کرنے کے بجائے عملی حل پر توجہ دیں جو حقیقی حالات میں حقیقی کھیتوں میں دیرپا ہوں۔۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی کامیابی کو اس بات سے ناپا جانا چاہیے کہ آیا چھوٹے کسانوں کو ان آلات سے واقعی فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں۔اُنہوں نے کہا،’’میں اِنڈین سوسائٹی آف ایگری کلچرل انجینئرز، سکاسٹ کشمیر اور ہر نوجوان اِنجینئر اور اِختراع کار سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اَپنے بنیادی طور پر سستی اور رسائی کے ساتھ آلات تیار کریں۔ ایسے آلات بنائیں جو نہ صرف کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر بلکہ ریاسی کے کسی کم بینڈوڈتھ والے گاؤں میں ایک عام سمارٹ فون پر بھی کام کریں۔ایسے روبوٹک آلات تیار کریں جو فارمز پروڈیوسرآرگنائزیشنز کے ذریعے لیز پر دئیے جا سکیں یا کاشتکار کمیونٹیوں کی اجتماعی ملکیت میں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ جین زیڈ کاشتکاری کے لئے ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حقیقی مطلب یہی ہے، ایسی ٹیکنالوجی جو چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے ساتھ ساتھ ترقی کرے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کا ’جامع زرعی ترقیاتی ڈیولپمنٹ پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی )‘ دوسری ریاستوں کے لئے قابل تقلید ماڈل ہے۔ اُنہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ہندوستان بھر کے زرعی سائنس داںاور اِنجینئران درست زراعت اور دیرپاوسائل کے اِنتظام میں یوٹی کے تجربے سے سیکھیں گے۔اُنہوں نے کہا،’’ایسی ٹیکنالوجی تیار کریں جو حقیقی کھیتوں میں، حقیقی مانسون کے حالات میں اور حقیقی کسانوں کے محدود بجٹ میں مؤثر ثابت ہو۔ اَپنی کامیابی کو صرف پیٹنٹ یا شائع شدہ تحقیقی مقالوں سے مت ماپیں۔ اسے اس بات سے ناپیں کہ پانچ سال بعد اننت ناگ، امرتسر یا اکولا کا کوئی چھوٹا کسان آپ کے ٹولز کی بدولت واقعی بہتر حال میں ہے یا نہیں۔‘‘اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے آئی ایس اے اِی ایوارڈز کے حاصل کنندگان کو بھی اعزاز سے نوازا۔تقریب میںوزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقی و پنچایتی راج ، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار،ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار ڈاکٹر آشیش چندرا ورما، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی،صدر آئی ایس اے اِی ڈاکٹر ایس این جہا، ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی پروفیسر وی پی سنگھ،سیکرٹری جنرل آئی ایس اے اِی ڈاکٹر پی کے ساہو، کنوینر 60واں آئی ایس اے اِی کنونشنپروفیسر روہتاشو کمار،آرگنائزنگ سیکرٹری کنونشن ڈاکٹر مدثر علی، آئی ایس اے اِی کے اراکین، محققین، ماہرینِ تعلیم، ٹیکنوکریٹس، اِختراع کار، صنعتی قائدین، اساتذہ اور طلبأ موجود تھے۔