power outage

قصبہ ترال کے نصف درجن دیہات میں بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگوں کو مشکلات

محکمہ کی طرف سے عجیب وغریب کٹوتی شیدول پر عملدرآمد کرنے پر صارفین میں غم و غصہ کی لہر

سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے قصبہ ترال کے نصف درجن دیہات میں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے صارفین کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں صارفین میں محکمہ پی ڈی ڈی کے خلاف سخت غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ضلع پلوامہ کے قصبہ ترال کے متعدد علاقوں میں پچھلے ایک ہفتے سے محکمہ پی ڈی ڈی نے عجیب وغریب کٹوتی شیدول پر عملدرآمد شروع کیا ہے شام کے وقت اچانک اور غیر متوقع طور پر برقی رو منقطع کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں صارفین کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مذکورہ علاقوں کے لوگوں کے مطابق محکمہ پی ڈی ڈی نے خفیہ طور شیڈول مرتب کیا ہے اور اس شیڈول کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت منظر عام پر نہیں لایا جارہا ہے تاکہ انتظامیہ کے خلاف لوگ مشتعل نہ ہوجائیں۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق قصبہ ترال کے ہاری پاری گام علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ محکمہ پی ڈی ڈی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے صارفین کو پریشانیوں میں مبتلا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا پچھلے ایک ہفتے سے ایک ایسے شیڈول پر عملدرآمد کیا جارہا ہے جس کے کسی بھی صورت مین مثبت نتائج برآمد نہیں ہوسکتے ہیں۔شام پانچ بجے کے بعد اچانک بجلی منقطع کی جاتی ہے جسے علاقوں کے لوگوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ صارفین کے مطابق انہیں یہ سمجھ میں ہی نہیں آرہا ہے کہ محکمہ پی ڈی ڈی کس شیڈول پر عمل کر رہا ہے اور محکمہ بجلی منقطع کرکے کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۔نمائندے کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک طرف سے ان علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری طرف مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی بجلی فیس کی بلیں ارسال کی جاتی ہے جو صارفین کے لئے باعث تشوش ہے۔مقامی لوگوں نے محکمہ اور ضلع انتظامیہ کو خبر دار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہیں کیا گیا اور علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال کرنے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے تو لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرئے کرنے پر مجبور ہو جائے گئے جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پر عائد ہو گی۔