دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل ، سیکورٹی فورسز کی اضافی کمک جنگلات میں رونہ
سرینگر // پونچھ کے سرنکوٹ علاقے میں ملی ٹنٹ حملے میں پانچ فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سیکورٹی فورسز نے حملے میںملوث ملی ٹنٹوں کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ مسلسل تیسرے روز بھی علاقے میں تلاشی آپریشن کے دوران خصوصی کمانڈوز اور ڈرون خدمات حاصل کی گئی ۔ تلاشی آپریشن کے چلتے راجوری اور پونچھ اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کر دی گئی ۔ ادھر حملہ کے مقام کے قریب تین عام شہری مشتبہ حالات میں مردہ پائے گئے جس کے بعد تحقیقات بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق سال رواں کے دوران چوتھی مرتبہ فوج کو پونچھ اور راجوری سیکٹر میں اس وقت بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب جمعرات کے روز مسلح ملی ٹنٹوں نے فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار لقمہ اجل بن گئے جبکہ تین دیگر شدید زخمی ہو گئے ۔ پونچھ اور راجوری کے درمیانی جنگلات میں سرنکوٹ کے ڈیرہ کی گلی کے جنگلی علاقے میں مسلح ملی ٹنٹوں نے گھات لگا کر فوجی ٹرک اور جپسی کو نشانہ بنا کر شدید فائرنگ کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ مسلح ملی ٹنٹوں نے نزدیکی پہاڑی سے فوجی گاڑیوں کو نشانہ بناکر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی وہاں کھلبلی مچ گئی اور فوجی اہلکاروں نے جوابی کارورائی کرتے ہوئے واپس گولیاں چلائی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی فائرنگ میں پانچ کے قریب 8اہلکار شدید طور پر زخمی ہو گئے اور خون میں لت پت وہی گر پڑے جس دوران ان میں سے تین کی موقعہ پر ہی موت ہوئی جبکہ پانچ دیگر اہلکار وں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا جہاں دو اور اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے اور اس طرح سے حملے میں مارے جانے والے فوجی اہلکاروں کی تعداد 5تک پہنچ گئی ۔ حملے کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی اضافہ کمک علاقے میں پہنچ گئی جنہوں نے پورے جنگلات میںبڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا اور ملی ٹنٹوں کو ھونڈ نکالنے کیلئے کارورائی تیز کر دی گئی ہے ۔مسلسل تیسرے روز بھی جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری رہا ۔ علاقے میں تلاشی آپریشن کے دوران خصوصی کمانڈوز اور ڈرون خدمات حاصل کی گئی ۔ تلاشی آپریشن کے چلتے راجوری اور پونچھ اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کر دی گئی ۔ ادھر حملہ کے مقام کے قریب تین عام شہری مشتبہ حالات میں مردہ پائے گئے جس کے بعد تحقیقات بڑے پیمانے پر شروع کردی گئی ہے ۔ تینوں شہری کی شناخت محفوظ حسین (43) ولد میر حسین، 27 سالہ محمد شوکت ولد نذیر حسین اور محمد شبیر (32) ولد ولی محمد کے طور پر ہوئی ہے، تمام گاؤں ٹوپی کے رہائشی ہیں۔ ان کی موت پراسرار حالات میں ہوئی۔حکام نے بتایا کہ تین افراد کی موت کی اطلاع کے بعد ضلع سول اور پولیس انتظامیہ بفلیاز پہنچ گئی جبکہ صوبائی کمشنر رمیش کمار بھی سورنکوٹ کی طرف روانہ ہو ئے جنہوں نے وہاں حالات کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ۔










