Non-state tourists protest at the quarantine center in Sanatnagar srinagar

غیر ریاستی سیاحوں کا صنعت نگرکے کورنٹائن سینٹر میں احتجاج

سرینگر//وادی کشمیر کی سیر وتفریح پر آئے ہوئے سیاحوں نے انہیں قرنطین مرکز میںرکھنے کے خلاف حتجاج کیا اور الزام لگایا کہ اْن کا ٹسٹ منفی آنے کے باجودانہیں کورنٹائن کیا گیا ہے جس پر انہوں نے احتجاج کیا ہے۔ سیاحوں نے جمعرات کو بتایا کہ سری نگر ہوائی اڈے پر کورونا ٹیسٹ منفی آنے کے باوجود بھی اْنہیں اب سات روز تک صنعت نگر میراج ہال میں کورنٹائن کیا گیا ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے۔جس پرصنعت نگر سری نگر میں قائم میراج ہال کے احاطے میں سیاحوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔دہلی سے آئے ہوئے ایک سیاح نے بتایا کہ ’وہ مالدیپ سے کشمیر کی سیر وتفریح کیلئے آیا اور ہوائی اڈے پر پہنچتے ہی اْن کا رپیڈ ٹیسٹ کیا گیا جو منفی آیا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اْن کا آرٹی پی سی آر ٹیسٹ بھی کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی صنعت میں کورنٹائن کیا گیا۔مذکورہ سیاح کے مطابق ’کورونا کے دونوں ٹیکوں کی سرٹیفکیٹ دینے کے باوجود بھی اْنہیں کمرے میں بند رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی کوفت کا شکار ہو گئے ہیں‘۔سیاح کا مزید کہنا تھا کہ ’مرکزی وزارت داخلہ کی گائیڈ لائن میں واضح کیا گیا کہ اومیکرون ویرینٹ سے متاثرہ ممالک جن میں ساوتھ افریقہ اور بعض یورپی ممالک آتے ہیں کے سیاحوں کو ہی سات دنوں تک کورنٹائن کیا جائے جبکہ مالدیپ اس میں نہیں آتا ہے‘۔مزکرہ سیاح نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں دو یا تین دن کی سیت تفریح کے لئے آیا ہے لیکن انہیں یہاں بند رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کے پیسے یہاں ضائح ہوں گے ۔دبئی سے آئے ہوئے اور ایک سیاح نے بتایا کہ دو دن کی چھٹی کیلئے وہ کشمیر آیا تھا تاکہ یہاں کے صحر انگیز نظاروں سے روبرو ہونے کا موقع فراہم ہو سکے شو مئی کہ اْنہیں سری نگر ہوائی اڈے پر پہنچتے ہی صنعت لا کر یہاں پر ایک کمرے میں رکھا گیا۔ایک خاتون سیاح نے کہا کہ ’کل ہی کورونا ٹیسٹ منفی آیا لیکن انتظامیہ نے صنعت نگر میں ایک کمرے میں بند کرکے اْن کے کشمیر کے پروگرام کو ناکام بنایا ہے‘۔اْن کا مزید کہنا تھا کہ ’اومیکرون ویرینٹ سے متاثرہ ممالک کے سیاحوں کو ہی کورنٹائن کرنے کے حوالے سے مرکزی حکومت نے حکم نامہ جاری کیا جبکہ ہم جی سی سی ممالک سے آتے ہیں لہذا ہمیں غیر ضروری طورپر پریشان کیا جارہا ہے‘۔