اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ کے 39 دن آج مکمل ہو گئے۔ 7 اکتوبر کو حماس نے غزہ پٹی سے اسرائیل کی طرف 5 ہزار سے زائد راکیٹ داغے تھے جس سے تقریباً 1400 اسرائیلیوں کی جان چلی گئی تھی۔ اس کے بعد سے ہی اسرائیل نے غزہ پر حملے کی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ حماس سے آر پار کی جنگ میں اسرائیلی فوج غزہ میں گھس کر زبردست بمباری کر رہی ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے فوجیوں نے غزہ میں حماس کی پارلیمنٹ سمیت کئی اہم اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔بر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے اپنے دعویٰ میں کہا ہے کہ حماس غزہ پٹی پر اپنے کنٹرول سے محروم ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پارلیمنٹ اور غزہ سٹی میں حماس کی طرف سے چلنے والے دیگر سرکاری اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں اسرائیلی فوجی حماس کی پارلیمنٹ پر اپنا پرچم لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس تصویر میں اسرائیلی فوج کے جوان حماس کی پارلیمنٹ میں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔اسرائیلی فوج نے اس تعلق سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’ہماری آرمی یونٹ نے حماس کی پارلیمنٹ، سرکاری عمارتوں، حماس کے پولیس ہیڈکوارٹر اور ایک انجینئرنگ فیکلٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ فیکلٹی اسلحوں کے پروڈکشن اور ڈیولپمنٹ کے لیے ایک ادارہ کی شکل میں کام کرتی تھی۔‘‘ اسرائیلی وزیر دفاع یوف گیلینٹ کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے قومی ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’غزہ پٹی پوری طرح سے ہمارے کنٹرول میں ہے۔ اب حماس کے جنگجو جنوب کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ وہاں کے مقامی لوگ حماس کے ٹھکانوں پر لوٹ پاٹ کر رہے ہیں۔‘‘ان سب کے درمیان غزہ کے بیشتر اسپتالوں اور کلینک سنٹرس میں حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا کے دروازے کے باہر اسرائیلی ٹینک کھڑے ہیں اور بمباری ہو رہی ہے۔ اسپتال میں ایندھن ختم ہو گیا ہے۔ مریضوں کے لیے کھانے اور پانی کی بھی قلت ہو گئی ہے۔ بجلی بند ہونے سے مشینیں کام نہیں کر رہی ہیں۔ آئی سی یو میں مریضوں اور انکیوبیٹر میں نوزائیدہ بچوں کی حالت نازک ہو رہی ہے۔ الشفا اسپتال کے چیف کے مطابق اسپتال کے کیمپس میں ایک ساتھ 179 لاشوں کو دفنانا پڑا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس اسپتال کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے، حالانکہ الشفا اسپتال کے ڈاکٹروں نے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس جگہ کو چھوڑ دیں گے تو تقریباً 700 مریض مارے جائیں گے۔دوسری طرف قطر کی کوشش ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرہ کا راستہ ہموار کرے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حماس نے قطر کے افسران سے کہا ہے کہ 5 دن کی جنگ بندی کے بدلے وہ 70 یرغمالوں کو چھوڑنے کے لیے راضی ہے۔ دراصل 7 اکتوبر کو راکیٹ حملے کے ساتھ ہی حماس کے کئی جنگجو اسرائیل میں داخل ہو گئے تھے۔ حماس کے جنگجوؤں نے کئی لوگوں کو ہلاک کر ڈالا تھا اور کم از کم 250 لوگوں کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ان میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ یرغمالوں میں کئی لوگوں کی موت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔










