صحافیوں کودھمکیاں دینے والے جلدسلاخوں کے پیچھے ہوں گی

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی ورکرز پارٹی کے صدر میر جنیدکویقین دہانی

سری نگر// جموں و کشمیر ورکرز پارٹی کے صدر میر جنید نے جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو دی جانے والی حالیہ دھمکیوں اور اس دھمکی پر پانچ میڈیا والوں کے استعفیٰ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔جے کے این ایس نامہ نگار طارق راتھر کے مطابق ورکرز پارٹی کے صدر میر جنید نے پریس کے نام جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ خطے میں دہشت گردی کے خطرات کی وجہ سے میڈیا کی آزادی اور فعال سول سوسائٹی کے لئے جگہ مستقل طور پر متاثر ہو رہی ہے۔میرجنید کے بقول صحافیوں کی حفاظت کا یقین دلاتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ہم اپنے بہادر صحافیوں کی حفاظت اور حمایت کی یقین دہانی کراتے ہیں جو ہمیشہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں سب سے آگے رہے ہیں۔ دھمکیاں دینے والے سلاخوں کے پیچھے ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صحافی اس طرح کے دہشت گردی کے خطرات سے گزرنے کے لیے کافی بہادر ہیں اور انہوں نے بار بار ثابت کیا ہے کہ قلم بندوق سے زیادہ طاقتور ہے۔ میرجنید نے ایل جی منوج سنہا کو اس کام پر بھی مبارکباد دی کہ وہ کپواڑہ سے 35 کلومیٹر دور سرحدی گاؤں رنگواڑہ کو بجلی فراہم کرکے بھولے ہوئے دیہاتوں تک پہنچیں۔ قابل ذکر ہے کہ1947 کے بعد جب ہندوستان کو آزادی ملی تو اس گاؤں میں پہلی بار بجلی دیکھی گئی۔ گاؤں دین دھیال اسکیم کے تحت آنے پر گاؤں کے مکینوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ میر جنیدنے کہا کہ ایل جی انتظامیہ کے تحت جموں و کشمیر ترقی کے ایک نئے دور کا مشاہدہ کر رہا ہے جس کے لیے ایل جی منوج سنہا کو یاد رکھا جائے گا۔