شمالی ریلوئے کی جانب سے نئے ریل ٹریک کیلئے زمین کی نشاندہی

ہردوکیتھل صوفی پورہ ولرہامہ پہلگام کے لوگوں کا زور دار احتجاج

سرینگر / /شمالی ریلوئے کی جانب سے نئے ریل ٹریک کیلئے زمین کی نشاندہی کرنے پر ہردوکیتھل صوفی پورہ ولرہامہ پہلگام کے لوگوں نے زور دار احتجاج کرتے ہوئے ریل لائن کی زد میں اگریکلچر اور ہارٹیکلچر کی زمین آتی ہے جس کے باعث سینکڑوں کی تعداد میں لوگ بے روز گار ہو جائیں گے ۔ سی این آئی کو نمائندے گلزار گنائی نے اس ضمن میں اننت ناگ سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ہردوکیتھل صوفی پورہ ولرہامہ پہلگام کے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے سٹیشن کیلئے زمین کی نشاندہی کی گئی جس کی وجہ سے کافی لوگ بے روزگار ہو جائے گے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمالی ریلوئے کی جانب سے جو نئی ریلوئے لائن تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے اس کو زرعی زمین کے بیچ و بیچ نشاندہی کرکے لیجانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو کہ باعث افسوس ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی زد میں جو زمین آئی گی وہ اگریکلچر اور ہارٹیکلچر کی زمین ہے اور اس سے کافی سارے لوگوں کی روز ی روٹی وابستہ ہے ۔ مقامی لوگوں نے کہا ’’یہاں سے سرکاری زمین ایک کلومیٹر دور یے وہاں سٹیشن کیلئے زمین کی نشاندہی کی جائے‘‘ ۔ لوگوں نے کہا کہ ہم خوش ہیں کہ جموں کشمیر کے ہر خطے میں ریل ٹریک بن رہے ہیں جس سے یہاں کی ترقی میں اضافہ ہو گا، تاہم اس علاقے میں ریل سٹیشن کی زد میں ہاٹیکلچر اور ایگریکلچراراضی آنے سے لوگ بے روزگار ہو جائے گے، کیونکہ یہاں کے لوگوں کی روضی اسی پر منحصر ہیں انہوں نے کہا کہ یہاںسے صرف ایک کلومیٹر دوری پر آٹھ سو سے زائد کنال زمین موجود ہیں جہاں بڑا سٹیشن بن سکتا ہے، انہوں وزیر اعظم نریندر مودی، لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا، اور ریل حکام سے گزارش کی کہ اس علاقے کے لوگوں کی مانگ کو دیکھ کر اس علاقے کی اور توجہ دے کر ریل سٹیشن سرکاری اراضی پر بنایا جائے۔