سری نگر//سیکرٹری قبائلی اَمور محکمہ ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری جوکہ ٹرائبل ریسرچ اِنسٹی چیوٹ کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں ، نے قبائلی علاقوں کی فلاح و بہبود او رترقیاتی منصوبہ بندی کے لئے شروع کئے گئے مختلف ریسرچ پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا ۔ شعبے ریسر چ پروجیکٹوں کا مقصد قبائلی بہبود کے لئے پالیسی اِنٹرونشن اور ترقیاتی منصوبہ بندی ہے۔ میٹنگ میں سپیشل سیکرٹری محمد ہارون ملک ،جے ٹی ڈائریکٹر پلاننگ شمع ان احمد ،ڈی آئی ڈائریکٹر ٹی آر آئی ڈاکٹر عبدالخبیر اور دیگر اَفسران نے شرکت کی۔ڈاکٹر عبدالخبیر نے ٹرائبل ریسرچ پروجیکٹوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جس کے بعد پروجیکٹ کے سربراہان نے سیکٹر کے لئے مخصوص پرزنٹیشن پیش کیں۔سیکرٹری ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے معیاری تحقیق اور جامع رِپورٹوں پر زور دیا جو قبائلی ترقی اور بہبود میں خلا کو دورکرنے میں سامنے آتے ہیں جو قبائلی ذیلی منصوبہ کی تشکیل او رجامع ترقی کے لئے فنڈس مختص کرنے کی بنیاد بنائے گی ۔اُنہوں نے نقطہ نظر کی منصوبہ بندی کے لئے ہیلتھ کیئر ، تعلیم ، معاش ، ہنر ، ٹرانس ہیومنٹ سپورٹ سسٹم ، ثقافت اور اَدب کو ترجیح دینے کو کہا۔ڈاکٹر شفیقہ گل اور سیّد حامد محمود نے قبائلی کاریگروں کے منصوبے ، ان کی مہارت ، اِن پُٹ سپورٹ اور مارکیٹنگ کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی ۔ ڈاکٹر ارم علی او رصوبیہ بشیر نے قبائلی دیہاتوں کی نقشہ سازی ، ہائی لینڈ چراگاہوں ، چشموں کے سروے ، قبائلی ترقی کی منصوبہ بندی کے لئے جی آئی ایس نقشے اور دیگر متعلقہ اقدامات کے بارے میں پیش کیا۔ڈاکٹر اینی جموال اور حشمت حبیب نے صحت کے بنیادی ڈھانچے ، ہیلتھ کیئر کی فراہمی اور قبائلی علاقوں میں کدمات کی دستیابی سے متعلق تحقیق پر پیش رفت کا اشترا ک کیا او رقبائلی صحت منصوبے میں شامل کرنے کے لئے مجوزہ منصوبوں کو بتایا۔ڈاکٹر سمرن ناگ نے قبائلی طلباء کی تعلیم پر کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض کے اَثرات اور جامع تعلیم کو یقینی بنانے کی حکمت عملیوں کے بارے میں اَپنے تاثرات پیش کئے۔ارچنا شرما اور ابرار قادر میر نے سماج اور جموں وکشمیر میں قبائیلی برادریوں کی ثقافت پر ڈیجیٹلائزیشن کے اثرات سے متعلق اَپنے کام کا اشتراک کیا۔دیگر تحقیقی اور ترقیاتی منصوبے جن کا مقصد قبائلی آبادی کی جامع ترقی کے لئے مرکزی معاونت والی سکیموں اور جموںوکشمیر یوٹی بجٹ سے جامع منصوبہ بندی کرنا تھا ۔ ان میں ڈاکٹر ایاز محمود ڈار کی جانب سے علاقے کی ترقی کی منصوبہ بندی کے لئے جیو سپیشل ٹیکنالوجی پر مبنی اپروچ ، خوراک کے تحفظ کے لئے ڈاکٹر سجاد احمد ڈار ، شراکتی منصوبہ بندی سیلف ہیلپ گروپوں کو شامل کرناور سمیر خضر اور آشوتوش شرما کی طرف سے جنگل میں رہنے والی کمیونٹیو ںکے لئے روابط، ممتاز احمد نعمانی اور منیر احمد ملک کی طرف سے جدوجہد آزادی میں قبائلی آزادی پسندوں کا کردار شامل تھے۔










