سکینہ اِیتو کا سری نگر میں میگا ٹیچرز کانفرنس سے خطاب

سکینہ اِیتو کا سری نگر میں میگا ٹیچرز کانفرنس سے خطاب

کہا،اساتذہ قوم کے معمار ہیں،حکومت ان کے وقار اور حقوق کے تحفظ کیلئے پُر عزم ہے

سری نگر// وزیربرائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ اَساتذہ تعلیمی نظام کا بنیادی ستون ہیں اور معاشرے اور قوم کے مستقبل کی تعمیر میں ناگزیر کردار اَدا کرتے ہیں۔وزیر موصوفہ ایس سی اِی آر ٹی بمنہ میں جموں و کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم (جے کے آر ٹی ٹی ایف)کے زیراہتمام ’اساتذہ کے کردار، حقوق اور ذِمہ داریاں‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ’ میگا ٹیچرز کانفرنس ‘سے خطاب کر رہی تھیں۔کانفرنس میں محکمہ سکولی تعلیم کے سینئر اَفسران کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کی۔وزیر تعلیم نے نے کہا کہ رہبر تعلیم سکیم کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ کا کردار ان علاقوں تک تعلیم پہنچانے میں اِنتہائی اہم رہا ہے جہاں تعلیمی سہولیات یا تو ناکافی تھیں یا سرے سے موجود ہی نہیں تھیں۔اُنہوں نے کہا،’’جب رہبرتعلیم سکیم متعارف ککی گئی تھی تو شاید کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ بہت سے دور دراز علاقوں کے وہ سکول جو کبھی بند پڑے تھے یا جہاں تدریسی سہولیات ناکافی تھیں، فعال اور تعلیم کے متحرک مراکز بن جائیں گے۔ ان سکولوں میں تعلیم پانے والے بچوں نے اَپنے اہداف حاصل کئے ہیں اور اس تبدیلی کا سہرا ہمارے اَساتذہ کے سر جاتا ہے۔‘‘وزیر موصوفہ نے کہا کہ حکومت اَساتذہ کی بے پناہ خدمات کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے وقار، پیشہ ورانہ حیثیت اور بہبود کو مستحکم کرنے کے لئے اَقدامات کرتی رہے گی۔اُنہوں نے کہا، ’’ایک استاد محض محکمہ تعلیم کا ملازم نہیں ہوتا؛ اُستاد وہ شخصیت ہے جو ہمارے معاشرے کا مستقبل تشکیل دیتی ہے۔ ہم اس وقت تک ایک مضبوط اور ترقی پسند جموں و کشمیر کی تعمیر کا دعویٰ نہیں کر سکتے جب تک یہ یقینی نہ بنائیں کہ ہمارے اساتذہ کو عزت دی جائے، ان کی بات سنی جائے اور انہیں بااِختیار بنایا جائے۔‘‘اُنہوں نے تدریسی کمیونٹی کو یقین دِلایا کہ کانفرنس کے دوران اُٹھائے گئے جائز مسائل کا پوری سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اورحکومت قابلِ اطلاق قواعد و ضوابط کے تحت ان کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔وزیر تعلیم نے کہا، ’’میں آپ کو یقین دِلانا چاہتی ہوں کہ حکومت نے آپ کے لئے کام کیا ہے اور آئندہ بھی آپ کے لئے کام کرتی رہے گی۔ آج میرے سامنے رکھے گئے مسائل اور مطالبات حقیقی ہیں اور ان پر غور کیا جانا چاہیے۔ ہم آپ کے مسائل سنیں گے، ان کا جائزہ لیں گے اور انہیں آگے بڑھائیں گے تاکہ ہماری تدریسی کمیونٹی کی اُمیدوں کو مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘اُنہوں نے اساتذہ کمیونٹی کے مسائل کی حمایت میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے کردار کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کے تئیں حکومت کا عزم کا اظہار حال ہی میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے اساتذہ کمیونٹی سے متعلق مسائل پر منظور کی گئی قرارداد سے بھی ہوتا ہے۔وزیر موصوفہ نے کہا، ’’وزیر اعلیٰ نے ہر مناسب موقعہ پر ہمارے اساتذہ کے مسائل اور ان کے وقار کے بارے میں بات کی ہے۔ قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قراردادکوئی احسان نہیں تھا بلکہ اساتذہ کمیونٹی کے تئیں ہماری ذمہ داری کا اِظہار تھا۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے ذریعے قانون ساز اسمبلی کے ارکان کو اساتذہ کی اہمیت اور انہیں درپیش مسائل پر غور و خوض کا موقع ملا ہے۔اُنہوںنے کہا، ’’اسمبلی میں ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ جموں و کشمیر کے لئے ہمارے اساتذہ کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایوان کے مختلف ارکان نے اساتذہ کی خدمات اور ان کے جائز مفادات کے تحفظ کی ضرورت پر بات کی۔ اگرچہ ایوان کے پاس دستیاب وقت محدود تھالیکن جذبہ واضح تھا کہ اساتذہ کمیونٹی ہمارے احترام اور ادارہ جاتی تعاون کی مستحق ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت محض اعلانات کی خاطر وعدے نہیں کر رہی بلکہ مسائل کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کام کر رہی ہے۔
سکینہ اِیتو نے کہا، ’’میرا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اعلان کے بعد عملی اقدام بھی ہونا چاہیے۔ میں ایسے وعدے کرنے پر یقین نہیں رکھتی جنہیں بعد میں نظرانداز کر دیا جائے۔ جہاں کسی مسئلے پر محکمہ، متعلقہ ڈائریکٹر یا حکومت کی سطح پر کارروائی ضرورت ہوتی ہے، ہم اسے مناسب طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے رہبرتعلیم اساتذہ کے لئے ایک جامع تبادلہ پالیسی کے مطالبے پر کہا کہ یہ عمل پہلے ہی ایک اہم مرحلے میں ہے۔وزیر تعلیم سکینہ اِیتونے کہا، ’’رہبرتعلیم اساتذہ کے لئے تبادلہ پالیسی تقریباً تیار ہے۔ ہم نے مسودہ عوامی سطح پر اس لئے رکھا تھا تاکہ تمام شراکت داروں سے تجاویز حاصل کی جا سکیں۔ موصول ہونے والی تجاویز کا اب جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پالیسی کے دائرٔکار میں جو کچھ ممکن ہو، اسے شامل کیا جائے۔‘‘اُنہوںنے بتایا کہ اساتذہ کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد مسائل پر مختلف سطحوں پر کارروائی کی ضرورت ہے جن میں متعلقہ محکموں کے سربراہان اور اِنتظامی حکام شامل ہیں اور ان معاملات کے جائزے اور حل کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔اُنہوںنے تدریسی کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے وسیع تر مقصد کے لئے پُر عزم رہیں بالخصوص ان بچوں کے لئے جو پسماندہ اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ڈائریکٹر سکولی تعلیم کشمیر نصیر احمد وانی نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور جموں و کشمیر بھر میں تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں رہبرِ تعلیم اساتذہ کے کردار کو سراہا۔ اُنہوں نے دُشوار گزار اور دُور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی لگن کا اعتراف کیا اور دور افتادہ آبادیوں کے بچوں تک تعلیم کی رسائی یقینی بنانے میں ان کے کردار کو اُجاگر کیا۔اِس موقعہ پر ’رہبر تعلیم ٹیچرز فورم‘کی قیادت نے ایک تفصیلی یادداشت پیش کی جس میں اساتذہ کی فلاح و بہبود، وقار اور پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق مختلف مسائل کو اُجاگر کیا گیا۔اہم مطالبات میں این پی ایس کے تحت آنے والے اہل رہبر تعلیم اساتذہ کے لئے اولڈ پنشن سکیم کی بحالی، جامع اور شفاف تبادلہ پالیسی کی تشکیل، ماسٹر گریڈ کی اَسامیوں کی تخلیق،’ وَن ٹائم ایکزمپشن‘ کے تحت رعایت، سکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، سمارٹ کلاس رومز کا قیام اور مختلف طویل عرصے سے زیرِ اِلتوأ سروس اور تعلیمی مسائل کا حل شامل تھا۔تدریسی کمیونٹی کے نمائندوں نے اساتذہ کے مسائل کے حوالے سے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو کا شکریہ بھی اَدا کیا۔