رواں سال محض7مہینوںمیں 5لاکھ سے زیادہ مہمانوںکی میزبانی کا شرف حاصل
سونہ مرگ// واقعات کے ایک غیر معمولی موڑ میں، وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں ایک دلکش پناہ گاہ اورسیاحتی مرکز سونہ مرگ نے گزشتہ7 مہینوں میں5لاکھ سے زیادہ زائرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیاحوں کی آمد میں زبردست اضافہ دیکھا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق سونہ مرگ ، جسے اکثر’سونے کے گھاس کا میدان‘کہا جاتا ہے، اپنی برف سے ڈھکی چوٹیوں اور 2730 میٹر کی اونچائی ایک پرفتن پہاڑی مرکزیامقام کے طور پر مسافروں کو مسحور کرتا رہتا ہے۔حکام کاکہناہے کہ رواں سال جنوری سے جولائی تک کے 7مہینوں کے دران اس خطینے تقریباً5لاکھ سے زیادہ سیاحوں وسیلانیوںکی میزبانی کی ،جو اس خوبصورت خطے میں بڑھتی سیاحتی سرگرمیوںکا ایک ثبوت ہے ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، جنوری 2023سے جولائی2023تک 4لاکھ76ہزار ملکی سیاحوں، 4ہزار سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں اور28ہزار سے زیادہ مقامی سیلانیوں نے سونہ مرگ آکر یہاں کے سبزہ زاروں اور برف کی ڈھکمی چوٹیوںکا نظارہ کیا ۔یہ قابل ذکر اضافہ پہلی بار ہے جب سونہ مرگ میں غیر ملکی سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی ہے، جو اس خطے میں سیاحتی صنعت کیلئے ایک اُمید افزا رُجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔سونہ مرگ اوراسکے نواحی علاقوںکے لوگ بالخصوص سیاحتی سرگرمیوں سے جڑے افراد اس صورتحال سے کافی مطمئن نظرآتے ہیں ،کیونکہ اُن کی معاشی اورمالی حالت میں کافی بہتری اوراستحکام آیاہے ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ سونہ مرگ مستقبل میں متعدد تقریبات اور ثقافتی پروگراموں کی میزبانی کرے گا، جس سے سیاحت کے شعبے کو مزید ترقی ملے گی۔ایک مقامی ہوٹل والے نے کہاکہ رواں سیزن میں سیاحوں کی آمد ہماری توقعات سے بڑھ گئی ہے، اور ہم محکمہ سیاحت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ان کی پروموشنل کوششوں کے باعث ہر گزرتے دن کے ساتھ، صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ضلع گاندربل کے کنگن علاقے کے ایک صحافی نے عام لوگوںکے تاثرات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ اب ہوٹلوںمیں جگہ کم پڑرہی ہے اور مقامی سیلانی اب جدید خیموں کیساتھ آکر یہاں کھلی فضاء میں قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔انہوںنے تاہم کہاکہ اب سونہ مرگ میں بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کیلئے مزید کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن صحافی نے ساتھ ہی کہاکہ یہاںکے قدرتی نظاروں ،بشمول پہاڑیوں ،چوٹیوں اور سرسبزجنگلات کو گلمرگ یا پہلگام کی طرح کنکریٹ سڑکوں اور ہوٹلوں وغیرہ سے تباہ کرنے سے احتراض کیا جاناچاہئے ۔(مشمولات ’کے آئی ایف‘)










