Saurabh Bhagat

سوربھ بھگت نے گاندربل میں بیداری پروگرام کی صدارت کی

گاندربل//جموںوکشمیر اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی (جے اے کے اِی ڈی اے) محکمہ سائنس او رٹیکنالوجی نے آج ضلع گاندربل میں سولر اَنرجی سے چلنے والے ایگری کلچر پمپوں کی تنصیب کے بارے میں کسانوں کو آگاہ کرنے کے لئے ایک بیداری پروگرام کا اِنعقاد کیا۔ کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوربھ بھگت نے آج یہاں منی سیکرٹریٹ گاندربل کے کانفرنس ہال میں پروگرام کی صدارت کی۔ پروگرام میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے اے کے اِی ڈی اے ڈاکٹر پی آر دھر ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جے اینڈ کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن کونسل ڈاکٹر ناصر احمد شاہ ، ایگزیکٹیو اِنجینئر جے اے کے اِی ڈی اے محمد یوسف بٹ ، ڈپٹی سی اِی او جے اے کے اِی ڈی اے مظفر احمد ملک ، ریجنل ہیڈ جے اے کے اِی ڈی اے رابعہ نور کے علاوہ چیف ہارٹی کلچر آفیسر گاندربل ، چیف ایگری کلچر آفیسر گاندربل او ردیگر ضلعی اَفسران نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری نے اَپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نئی او رقابل تجدید توانائی کی مرکزی وزارت کی طرف سے پرائم منسٹر کسان اُرجا سرکھشاایوام اتھان مہابھیان ( پی ایم۔کے یو ایس یو ایم) سکیم کے تحت مختلف فوائد اور ترغیبات پر روشنی ڈالی ۔ کسان برداری اِس سکیم کا فائدہ اُٹھانے کے لئے جو کہ 80 فیصد سبسڈی کے ساتھ صرف سرکاری سکیم ہے۔اُنہوں نے جموںوکشمیر سائنس ٹیکنالوجی اور اِنوویشن کونسل کے اقدام پر بھی روشنی ڈالی جس میں جموںوکشمیر یوٹی میں آروما کیش کراپس کے ڈیمانسٹریشن فارمز کے قیام کے حوالے سے کاشت کاروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ لیوینڈر ، گلاب ، سالویہ ،پودینہ اور دیگر اعلیٰ قیمت والی خوشبودار اور ادویات کی فصلوں کی کاشت شروع کریں۔بیداری پروگرام کے دوران یہ بتایا گیا کہ پی ایم۔ کے یو ایس یو ایم سکیم کے بڑے پیمانے پر دو اہم اجزأ ہیں ۔جزو’’بی‘‘ کے تحت ڈیزل سے چلنے والے پمپوں کو سولر پمپ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اور نئے پمپوں کو غیر گرڈ والے علاقوں میں بھی ڈی سینٹر لائزڈ ایپلی کیشن کے تحت نصب کیا جاسکتا ہے جبکہ جزو’’ سی‘‘ کے تحت کسانوں سے بجلی کے پمپوںکو سولر اَنرجی سے چلنے والے پمپوں سے تبدیل کیاجاسکتا ہے ۔ اِس سکیم سے کسانوں کو آبپاشی کے مقصد کے لئے 10 ایچ پی صلاحیت تک سبسڈی والے سولر اَنرجی سے چلنے والے پمپوں لگانے کی اِجازت ملتی ہے۔دونوں زمروں کے تحت وزارت پمپ کی قیمت کا 50فیصد سبسڈی فراہم کرتی ہے ،30فیصد لاگت جموںوکشمیر کی حکومت فراہم کر رہی ہے اور استفادہ کنندگان کو پمپ کی صرف 20فیصد لاگت برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ یہ سکیم واٹر یوزر ایسو سی ایشنوںسے 10 ایچ پی صلاحیت تک کلسٹر پر مبنی آبپاشی پمپوں کی تنصیب کی بھی اِجازت دیتی ہے ۔ بعد میں کشمیر سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں پی ایم۔ کے یو ایس یو ایم اور لیونڈر رویولوشن پر بروشر بھی لانچ کیا۔