سوربھ بھگت نے لال منڈی میں سب ریجنل سائنس سینٹرکی سائٹ کا دورہ کیا

سری نگر// کمشنر سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محکمہ سوربھ بھگت نے لال منڈی میں سب ریجنل سائنس سینٹر کے قیام کی جگہ کا دورہ کیااَپنے دورے کے دوران اُنہوں نے سائنس سینٹر کے لئے حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔کمشنر سیکرٹری کے ہمراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر شاہ ، جوائنٹ ڈائریکٹر ایس اینڈ ٹی ڈیپارٹمنٹ بلال احمد ، ایگزن آر اینڈ بی عاشق حسین اور ایس اینڈ ٹی اور آر اینڈ بی محکموں کے دیگر اَفسران بھی تھے۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری کو محکمہ آر اینڈ بی کی جانب سے شروع کئے جانے والے کاموں کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا جس میں سائٹ کی لینڈ ڈیولپمنٹ او رمیوزیم کی عمارت کی تعمیر شامل ہے۔ ایس اینڈ ٹی اور آر اینڈ بی کشمیر کے اَفسران نے کمشنر سیکرٹری کو سری نگر میں آنے والے سائنس سینٹر کے منظور شدہ سائٹ پلان / ڈرائینگ کے مختلف حصوں اور ترتیب کے بارے میں جانکاری دی۔سوربھ بھگت نے لینڈ ڈیولپمنٹ کے سلسلے میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اِظہار کیا اور اِس سلسلے میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور آر اینڈ بی کے اَفسران کی کاوشوں کو بھی سراہا۔اُنہوں نے آر اینڈ بی اور جے کے ایس ٹی اینڈ آئی سی کے اَفسران کو سینٹر کے تعمیراتی کام کے جلدشروع کرنے کے لئے موقعہ پر ہدایات بھی جاری کیں۔اُنہوں نے متعلقہ اَفراد کو ہدایت دی کہ کام کے مختصر موسم اور سردیوں کے پیش نظر تعمیراتی عمل کو تیز کیا جائے تاکہ فنڈس مختص کئے جائیں ۔ یہ بات قابل ذِکر ہے کہ مرکز کی ٹائم لائنز سال 2023-24ء مقررہے اور جموںوکشمیر یوٹی کے بڑے فلیگ شپ پروجیکٹوں میں سے ایک ہے جس کا اعلان 2022ء کے مرکزی بجٹ میں بھی کیا گیا ہے۔یہ آنے والا سائنس سینٹر جموںوکشمیر یوٹی کی تاریخ میں اَپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے اور یہ نیشنل کونسل فار سائنس میوزیم ( این سی ایس ایم ) مرکزی حکومت محکمہ ثقافت کے تعاون سے 20کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے قائم کیا جارہا ہے۔اِس سینٹر میں تعلیمی اور تفریحی دونوں طرح کی ہوں گی اور یہ جموںوکشمیر یوٹی میں سیاحتی شعبے کو بھی فروغ دے گا۔ ایک بار شروع ہونے کے بعد یہ توقع کی جاتی ہے کہ مرکز روزانہ کی بنیاد پر طلباء اور سیاحوں دونوں کی ایک بڑی تعداد کا تجربہ کرے گا جو جموںوکشمیر یوٹی کی معاشی ترقی کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔