سرکاری اسکولوں کے مدرسین اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر سہولیات نہیں : اعجاز احمدخان
سری نگر//سینئر ٹریڈ یونین لیڈر اعجاز احمدخان نے تعلیم کوتجارت بنانے والوںکی حوصلہ شکنی کرنے پر زوردیتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ سرکاری اسکولوںمیں بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کی جانب معقول توجہ دی جائے ۔جے کے این ایس کے مطابق ایک بیان میں ملازم انجمنوںکے مشترکہ پلیٹ فارمEJCCکے چیئرمین اعجاز احمدخان نے کہاکہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ نجی تعلیمی اداروںکی تعریف کرکے سرکاری اسکولوںمیں تعینات اساتذہ اورزیرتعلیم بچوں وبچیوںکی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پرائیویٹ اسکولوںمیں زیرتعلیم طلباء وطالبات کی بہتری کارکردگی میںمتعلقہ اسکولوں کی انتظامیہ سے زیادہ اُن والدین کارول رہتا ہے ،جو ان اسکولوںمیں بھاری ٹیوشن فیس اداکرنے کے بعد اپنے بچوں بچیوںکی ٹیوشن کاانتظام کرتے ہیں ،اوریوں ڈبل خرچہ کرکے ہی وہ اپنے بچوں بچیوںکیلئے روشن تعلیمی مستقبل کی بنیاد ڈالتے ہیں ۔اعجاز احمد خان نے کہاکہ کئی نجی اسکولوںمیں درس وتدریس کاتسلی بخش انتظام ہے ۔انہوںنے کہاکہ میرایہ ماننانہیں کہ نجی اسکولوںمیں بچوں بچیوں کی صحیح طور پررہنمائی نہیں کی جاتی ہے بلکہ میرا یہ مانناہے کہ ایسے اسکولوںمیں پڑھنے والے بچوں کی کارکردگی میں والدین کارول اورعمل دخل بھی رہتاہے ۔ سینئر ٹریڈ یونین لیڈر اعجاز احمدخان نے کہاکہ نجی اسکولوں کی تعریفوں کے پُل باندھنے والے دانستہ یاغیر دانستہ طور پر سرکاری میں تعینات اساتذہ اورزیرتعلیم بچوں وبچیوںکی حوصلہ شکنی کاارتکاب کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر موازنہ کیا جائے تو نجی اسکولوںکے مقابلے میں سرکاری تعلیمی اداروںمیں بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے۔انہوں نے کہاکہ جہاں نجی اسکولوں کے کلاس رومز میں بچے بینچوں پر بیٹھتے ہیں ،وہیں سرکاری اسکولوںمیں زیرتعلیم بچوں بچیوں کیلئے بیٹھنے کی کوئی معقول جگہ ہی نہیں ہوتی ہے ۔اسی طرح جہاں نجی اسکولوںمیں درس وتدریس کیلئے درکار تمام سہولیات وضروریات دستیاب ہوتی ہیں ،وہیں سرکاری اسکولوںمیں ایسی سہولیات اور ضروریات کافقدان پایا جاتاہے ۔EJCCکے چیئرمین اعجاز احمدخان نے کہاکہ سرکاری اسکولوںمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیچر اور دیگر مدرسین تعینات ہوتے ہیں ،لیکن اُن کے پا س وہ سہولیات دستیاب نہیں ہوتی ہیں ،جن سے وہ اپنے شاگردوںکی صحیح رہنمائی کرسکیں اوراُن کو بہتر اندازمیں پڑھاسکیں ۔انہوںنے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی نظام میں موجود خامیوں اور کمزوریوںکی جانب توجہ مبذول کرکے سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائے تاکہ یہاں زیرتعلیم غریب اورمتوسط گھرانوں کے بچوں اور بچیوں کاتعلیمی مستقبل بھی روشن بن سکے ۔EJCCکے چیئرمین اعجاز احمدخان نے تعلیم سب کاحق یعنی Right -to-Educationکاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سرکاری اسکولوںکی تنقید کرنے کے بجائے ان کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے تعمیری اقدامات روبہ عمل لائے جائیں ۔انہوںنے سرکاری اسکولوں کی بلاوجہ تنقید کرنے والوں کوتعلیم کی نجکاری کی وکالت سے باز رہنے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ سرکاری اسکولوں کی حالت کوبہتر بناکر بھی ہم اپنے بچوں بچیوں کے مستقبل کو تابناک اورروشن بناسکتے ہیں ۔










