سرینگر//سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کیلئے صلاحیت سازی کا چار روزہ پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔ اس پروگرام کا اہتمام محکمہ سیاحت اور کشمیر یونیورسٹی نے مرکزی وزارت سیاحت کے اشتراک سے مشترکہ طور پر کیا تھا ۔ سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ پروگرام کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے جنہوں نے شرکت کرنے والے سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز میں اسناد اور انعامات تقسیم کئے ۔ افتتاحی تقریب میں یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم اور محکمہ سیاحت کے افسران کے علاوہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔اسٹیک ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے سرمد حفیظ نے خاص طور پر کووڈ کے بعد کے منظر نامے میں سیاحت کے اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کار میں اضافے ی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وبائی امراض کے بدلے ہوئے ماحول میں تجارتی طریقوں میں تبدیلی آئی ہے اور روز مرہ کے کاروبار کو چلاتے ہوئے اسی کو مدِ نظر رکھا جانا چاہئیے ۔سیاحت کے سیکرٹری نے اسٹیک ہولڈرز کو مہمان نوازی اور منصفانہ عمل کی پرانی روایات کی یاد دلائی اور انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ ملک میں مسابقتی سیاحتی منڈیوں میں برتری برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ان پر قائم رہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج کے صلاحیت سازی کے پروگرام کے ساتھ اسٹیک ہولڈرز کو دنیا میں کہیں اور پیروی کئے جانے والے جدید ترین تجارتی طریقوں ، کووڈ کے بعد کی احتیاطی تدابیر اور روائتی شائستگی کے لحاظ سے فائدہ پہنچے گا جو اس جگہ کو دُنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ ڈائریکٹر سیاحت کشمیر ڈاکٹر جی این ایتو نے اپنے اختتامی کلمات میں امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں ایک طویل سفر طے کرے گا جنہوں نے کووڈ کی مدت کے دوران نقصان اٹھایا ہے ۔ ڈین ریسرچ کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ارشاد نوچو نے بھی اختتامی تقریب سے خطاب کیا ۔










