سرحدپارسے ڈرون کی دخل اندازی ،پنجاب میں اضافہ ،جموں میں نمایاں کمی

منشیات، ہتھیار، دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود پہنچانے کیلئے ڈرون کا استعمال:بی ایس ایف

سری نگر//سرحدی حفاظتی فورس کے حکام نے کہاہے کہ جموں سیکٹر کے مقابلے اس سال پاکستان سے آنے والے پنجاب میں دیکھے جانے والے ڈرونز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق بارڈر سیکورٹی فورس کے حکام نے بتایاہے کہ اس سال جولائی تک سرحد پار سے پرواز کرنے والے کل 107 ڈرون ہندوستانی حدود میں دیکھے گئے، جب کہ پچھلے سال97 ڈرون دیکھے گئے تھے۔بی ایس ایف نے2021 میں بین الاقوامی سرحدکیساتھ سرحد پار سے آنے والے97 ڈرون دیکھے جن میں پنجاب میں 64، جموں میں بین الااقوامی سرحدپر31 اور جموں میں لائن آف کنٹرول سے2ڈرون داخل ہوتے دیکھے گئے۔انہوںنے کہاکہ جولائی2022 تک، بین الااقوامی سرحدکیساتھ107 ڈرون دیکھے گئے جن میں جموں میں بین الااقوامی سرحد پر 14 اور پنجاب سیکٹر میں93 ڈرون شامل ہیں اور جموں میں ایل او سی سے کوئی ڈرون داخل ہوتا نہیں دیکھا گیا۔بی ایس ایف کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر ڈرون پاکستان سے آئے ہیں اور ان کا استعمال منشیات، ہتھیار، دھماکہ خیز مواد اور گولہ بارود پہنچانے کیلئے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اینٹی ڈرون بندوقوں والی ٹیمیں سرحدوں پر تعینات ہیں۔ گشت کرنے والی جماعتیں کسی بھی مشکوک فضائی سرگرمی پر نظر رکھتی ہیں اور اکثر وہ ان ڈرونز سے نشہ آور اشیاء اور اسلحہ برآمد کر لیتے ہیں۔سال2021 میں بی ایس ایف نے فیروز پور سیکٹر میں ایک ڈرون کو مار گرایا تھا جبکہ اس سال 7 ڈرون مار گرائے گئے تھے اور ڈرون کے ذریعے بڑی مقدار میں منشیات کی ترسیل کی جانی تھی۔پاکستان کے ساتھ پنجاب کی سرحد کی کل لمبائی553 کلومیٹر ہے اور جموں کے علاقے میں ہندوستان،پاکستان سرحد کا 198 کلومیٹر حصہ بی ایس ایف کی حفاظت میں ہے۔بی ایس ایف کے ایک اور افسر نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد پار کرنے والے ہر ڈرون کو مار گرانے کیلئے کوئی موثر اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے لیکن زمین پر موجود ان کے جوان ڈرون یا سرحد پار کرنے والی کسی بھی فضائی چیز پر نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صرف زمین ہی نہیں، بلکہ ہم آسمان پر بھی نظر رکھتے ہیں اور بی ایس ایف کے اہلکاروں کو نامعلوم UAVs کو مار گرانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بعض اوقات ڈرون بہت اونچائی پر اڑتے ہیں جس کا پتہ لگانے کے لیے ہم اسے صرف گنگنانے کی آواز سے ہی اس کا پتہ لگاتے ہیں جب یہ زمین کے قریب آتا ہے۔