s jai shankar

سال 1948 میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلہ ’’ بڑی غلطی ‘‘تھی

ہم نے آج کمزوری کی ایک کھڑکی بند کر دی جسے ہم سال 1948 میں کھولنے کیلئے کافی بے وقوف تھے / جئے شنکر

سرینگر // سال 1948 میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلہ ایک ’’ بڑی غلطی ‘‘تھی کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ دفعہ 370 کے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ملک کی خارجہ پالیسی پر بھی گہرے اثرات ہیں اور آخر کار اسے منسوخ کرنے میں ہندوستان کو کئی دہائیاں لگیں۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق کرناٹک کے بنگلورو میں پی ای ایس یونیورسٹی کی گولڈن جوبلی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ سال 1948 میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا فیصلہ ایک ’’ بڑی غلطی ‘‘تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ بہت واضح ہے، حقیقت میں اب نہیں، 1970 کی دہائی تک یہ بہت واضح تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانا ایک بنیادی غلطی تھی کیونکہ آپ اسے عدالت میں لے جا رہے ہیں جہاں ججز آپ کے خلاف کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر نظریہ تھا جبکہ ان کے ’’جیو پولیٹیکل ایجنڈے‘‘ کے حامل ممالک نے نئی دہلی کیلئے کشمیر کو ’’خطرناک‘‘کے مسئلے کے طور پر استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان ’’سخت سر‘‘ ہوتا تو یہ ’’غلط فہمی‘‘ نہ کرتا۔انہوںنے کہا ’’دفعہ 370 کے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ملک کی خارجہ پالیسی پر بھی گہرے اثرات ہیں اور آخر کار اسے منسوخ کرنے میں ہندوستان کو کئی دہائیاں لگیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ میرے نزدیک دفعہ 370 صرف ملک کے اندر ہی نہیں تھا۔ اس کے درحقیقت خارجہ پالیسی کے گہرے اثرات ہیں۔ ہم نے آج کمزوری کی ایک کھڑکی بند کر دی جسے ہم 1948 میں کھولنے کیلئے کافی بے وقوف تھے‘‘۔نوجوانوں کے مضبوط تاریخی ثقافتی نقوش والے مقامات کا دورہ کرنے پر زور دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سارے لوگ 22 جنوری کو رام مندر کے افتتاح کے منتظر ہوں گے۔جئے شنکر نے کہا ’’نوجوانوں اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان جگہوں پر جائیں جہاں تاریخی طور پر ہماری ثقافتی نقوش بہت مضبوط ہے۔ تب آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہم تک محدود نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ مشرق کی طرف بڑھنا شروع کرتے ہیں، آپ ایک بہت مضبوط ثقافتی اثر دیکھ سکتے ہیں۔‘‘