کشمیر میںجماعت اسلامی کی مزید جائیدادیں ضبط، ڈوڈہ میں لشکر طیبہ کے سرحدپار مقیم کمانڈر کی جائیداد کی قرقی
سری نگر//ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے ہفتہ کو گاندربل، کپواڑہ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ ضلع سمیت وادی کشمیر میں جماعت اسلامی کی مزید جائیدادوں کو ضبط کرنا شروع کیا۔جبکہ جموں و کشمیر کے ڈوڈہ میں لشکر طیبہ کے کمانڈر کی جائیداد ضبط کی۔جے کے این ایس کے مطابق ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر بھر میںکالعدم مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کی 188 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو آگے کی جانے والی کارروائی کے دوران ضبط اورمنسلک کی جا رہی ہیں۔ ایس آئی اے نے کہاکہ یہ کارروائی پولیس تھانہ بتہ مالوسری نگرمیں درج ایف آئی آرزیرنمبر17/2019زیر سیکشن 10،11اور13یوے پی اے کیس کی تحقیقات کے نتیجے میں روبہ عمل لائی جارہی ہے جس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کے ذریعے تفتیش کی جا رہی ہے۔ایس آئی اے نے کہاکہ ابتدائی طور پر کالعدم مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کی طرف سے خریدی یا حاصل کی گئی کروڑوں روپے کی مالیت کی متعدد جائیدادوں نشاندہی کی گئی ہے۔حکاام نے کہا کہ ہفتہ کو ضبط کی گئی جائیداد کی تفصیلات ایس آئی اے کی سفارشات پر متعلقہ ضلع مجسٹریٹس کے حکم پر کی جانے والی کارروائی کی تکمیل کے بعد شیئر کی جائیں گی۔جموں و کشمیر پولیس نے اس کیلئے عدالتی حکم حاصل کرنے کے بعد ضلع ڈوڈہ کے ٹھٹھری علاقے میں لشکر طیبہ کے ایک ملی ٹنٹ کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔پولیس کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو جائیداد ضبط کی گئی ہے، وہ پاکستان سے کام کرنے والے لشکر طیبہ کے کمانڈر عبدالرشید کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کے ارادے سے اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کیلئے 1993 میں پاکستان گیا تھا اور اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کے بعد اس نے دراندازی کی اور ضلع ڈوڈہ میں سرگرم رہا۔بیان میں مزید کہاگیاہے کہ لشکر ملی ٹنٹ عبدالرشید دیگر ملی ٹنٹوں کے ساتھ شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں اور علاقے میں آتش زنی، دھماکوں وغیرہ کے دیگر واقعات میں ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، ڈوڈہ کے کئی نوجوانوں کو اس نے نوے کی دہائی میں ملی ٹنسی میں شامل ہونے کے لیے اکسایا اور بھرتی کیا۔پولیس بیان میں کہاگیاکہ اسے عدالت کے حکم پر اشتہاری مجرم بھی قرار دیا گیا ہے اور اس وقت وہ پاکستان سے کام کر رہا ہے اور سوشل میڈیا اور ورچوئل موڈ کے مختلف ذرائع سے ڈوڈا کے نوجوانوں کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کی طرف راغب کر رہا ہے۔بیان کے مطابق لشکر طیبہ کا کمانڈرعبدالرشیدمقدمہ زیرایف آئی آر23/1997زیرسیکشن364،302،121آرپی سی اور7/27 انڈین آرمز ایکٹ میں ملوث ہے۔ عدالت کے حکم سے اسے مفرور قرار دیا گیا اور بعد ازاں مجرم قرار دیا گیا۔ پولیس نے کہاکہ اس کی جائیداد کی قرق کا وارنٹ ایس ایس پی ڈوڈا نے آگے بڑھایا اور اس کے نتیجے میں ضلع مجسٹریٹ ڈوڈا نے حکم پر عمل درآمد کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی اور گاؤں خان پورہ میں واقع 4 کنال اور اڑھائی مرلہ اراضی کو ریونیو اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے منسلک کیا۔










