روایتی کشمیری ’سماوار‘بھی خودکار بن گیا، چائے کو خود کپ میں ڈالتا ہے

بانڈی پورہ کے نوجوان انجینئر جہانگیر کاایک اورکارنامہ

بانڈی پورہ//اب روایتی کشمیری ’سماوار‘میں معمولی تبدیل لاکر اسکو خودکار بنادیا۔اب سماوارسے’ نون چائے یا کشمیری زعفرانی قہوہ‘انڈیلنے کیلئے ہاتھ کااستعمال کرنے کی کم ہی ضرورت پڑے گی ،بلکہ دونوں روایتی مشروبات کوآسانی کیساتھ کپوں یاپیلوںمیں ڈالا جاسکتا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان انجینئر جہانگیر ارشدبٹ نے ایک اوراختراعی کارنامہ انجام دیاہے انجینئر جہانگیرارشد، انسٹی ٹیوٹ کے اپنے طالب علموں کیساتھ ایک نیا خیال لے کر آئے۔ انہوں نے کشمیری تہذیب کے خصوصی اثاثہ ’سماوار‘کو تبدیل اور خودکار بنایا جو نہ صرف چائے کو خود کپ میں ڈالتا ہے بلکہ جب چائے بہت زیادہ اُبلتی ہے تو اس کا ڈھکن خود بخود بند ہو جاتا ہے،اور چائے بھی نہیں گرتی ہے۔جہانگیر اپنی 20 پیٹنٹ ایجادات کے لئے جانا جاتا ہے، اس نے اس سماوار پر اپنے طلبہ کے ساتھ کاشووٹکس میں کام کیا، جو ایک ایسا ادارہ ہے جو طلبہ کو مختلف شعبوں میں اختراعات کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اس پروجیکٹ یااختراعی عمل میں انجینئر جہانگیر ارشد کے ساتھ شامل طالبات کامانناہے کہ اُن کے استاد جہانگیر صاحب میں اتنی خدداداد اہلیت ،صلاحیت اورذہانت ہے کہ وہ آنے والے دنوںمیں ناقابل یقین ایجادات اورکارنامے انجام دے سکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اسبات کافخر ہے کہ ہم جہانگیر سر کی شاگردی میں ہیں ،کیونکہ وہ ہمیں ہمیشہ اختراع اورایجادات کی ترغیب دیتے ہیں ۔