چونکہ یہ واقعہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیش آیا ہے، جسے نیشنل ڈیزاسٹر قرار دیا جانا چاہئے / ڈاکٹر فاروق
سرینگر // رام بن کے اُن متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے مرکز سے فوری امداد کی اپیل کی ہے جو موسم کی قرسامانیوں اور بادل پھٹنے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے اُمید ظاہر کی کہ چونکہ یہ واقعہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیش آیا ہے، جسے نیشنل ڈیزاسٹر قرار دیا جانا چاہئے ۔ سی این آئی کے مطابق اخبارات کے نام جاری اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے رام بن کے اُن متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے مرکز سے فوری امداد کی اپیل کی ہے انہوں نے کہا کہ سیلابی ریلوں کی تباہی سے 3سو مکانات ،دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُمید ظاہر کی کہ چونکہ یہ واقعہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیش آیا ہے، جسے نیشنل ڈیزاسٹر قرار دیا جانا چاہئے اور اس کے تحت متاثرین کی فوری مدد کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر سرکار کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خودوہاں گئے اور اُن کی بازآبادکری اور روزگار کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو متحد ہوکر ان متاثرین کی بازآبادکاری اور امداد کیلئے پیش پیش رہنا چاہئے جو ہمارا انسانی فریضہ ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کی امداد کرنا کارخیر ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جن کے مکانات زمین بوس ہوئے ہیں اور زمینیں بھی تباہ ہوچکی ہیں انہیں فی الحال محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے ۔ انہوں نے مغل روڑ پر ٹنل کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہاکہ سرینگر جموں شاہراہ کا متبادل ضرور ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مغل روڑ پر ٹریفک کی آمدورفت جاری رہتی ہے لیکن موسم کی خرابی کیساتھ ہی یہ شاہراہ بند ہوجاتی ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ اس شاہراہ پر ٹنل تعمیر کی جائے۔ پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر نے بھی رام بن کے متاثرین کے ساتھ دلی ہمدردی ظاہر کی ہے اور قیمتی جاموں کے اتلاف پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرین کی فوری بازآبادکاری کیلئے اپیل کی ہے۔










