راجوری میں فورسز اور ملی ٹنٹوںکے درمیان جھڑپ شروع

دو سے تین بندوق برداروں کی موجودگی کی اطلاع پر فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کا مشترکہ آپریشن

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں ہفتہ کے روز سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان اس وقت فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا جب ایک بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ کورڈن آپریشن کے دوران مشتبہ افراد سے رابطہ قائم ہوا۔یہ کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی، جس میں فوج، پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں دو سے تین دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔یو این ایس کے مطابق فوج کے وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر بتایا کہ آج تقریباً 11:30 بجے گمبھیر مغلان کے عمومی علاقے میں دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔حکام کے مطابق فورسز نے فوری اور محتاط کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو مکمل گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ دہشت گردوں کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ’’اوپریشن شیرولی‘‘ کے نام سے جاری ہے اور علاقے میں مزید اضافی کمک بھی روانہ کر دی گئی ہے۔دوریمال–گمبھیر مغلان بیلٹ میں جاری اس مشترکہ آپریشن کے دوران پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے اور تلاشی کارروائیاں وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔حکام نے بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد صورتحال کشیدہ ہے تاہم فورسز مکمل حکمت عملی کے ساتھ آپریشن کو آگے بڑھا رہی ہیں تاکہ علاقے کو دہشت گردی سے پاک کیا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق آخری اطلاعات تک آپریشن جاری تھا اور سیکیورٹی فورسز علاقے میں مضبوط پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔