سرینگر// دفعہ 370کے خاتمہ سے کشمیر کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا کی بات کرتے ہوئے جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ امن کی بحالی کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے سو اکوئی چارہ نہیںہے ۔ حد بندی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کو بی جے پی کیلئے خاص قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ حجاب معاملہ یوپی انتخابات سے قبل ایک سیاسی مہم کا حصہ ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر کی رہائشگاہ گپکار میں اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370کو ختم کرکے جموں کشمیر کو مزید پیچیدہ مسئلہ بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر معاملات کو حل کرنے کیلئے مرکز میںموجود بی جے پی سرکار کے پاس پاکستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر کوئی چارہ نہیںہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد جموں کشمیر کی صورتحال مزید بگاڑ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کشمیری خود کو اب غیر محفوظ سمجھ رہا ہے جبکہ عام آدمی کے ساتھ ساتھ یہاں کے صحافیوں کو بھی اب نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ صحافی سجاد گل ، فہد شاہ اور دیگر جیلوں میں نظر بند ہے ۔ جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جموں کشمیر کی صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے ۔ محبوبہ مفتی نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام کشمیری کی رہائی کیلئے آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور کسی کو آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ جب اٹل بہاری واجپائی کے پاس پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا کوئی اور راستہ نہیںتھا تو مودی کی سربراہی والی حکومت کو بھی اسے نقشہ قدم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سیاسی مسلے سمیت دیگر تمام معاملات کو حل کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت ہی واحد راستہ ہے ۔ حد بندی کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے بارے میںپوچھے گئے ایک سوال کے جواب میںمحبوبہ مفتی نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ صرف بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے تیار کر دی گئی ہے جبکہ باقی دیگر پارٹیوں نے رپورٹ کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی غلط پالیسوں کے خلاف پی اے جی ڈی کی جنگ جاری رہے گی ۔










