’حیاتیاتی تنوع کونسل‘ کے قیام کو منظوری

10رکنی کونسل کی کمان پرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹس کے سپرد

سرینگر/ // حکومت نے جموں کشمیر میں’ حیاتیاتی تنوع کونسل‘ کے قیام کو منظوری دیتے ہوئے پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹس کو اس کی کمان سونپ دی۔ یہ کونسل حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 (2003 کا مرکزی ایکٹ 18) اور حیاتیاتی تنوع کے قواعد، 2004 کی دفعات کے مطابق کام کرے گی۔عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری کی جانب سے جاری آرڈر کے مطابق کونسل محکمہ خزانہ کی پیشگی رضامندی حاصل کرنے کے بعد ’’جموں و کشمیر بائیو ڈائیورسٹی کونسل فنڈ‘‘ تشکیل دے گی، اور اس میں تمام فیس، رقوم، چارجز کی رقم جمع کی جائے گی۔ جموں و کشمیر بائیو ڈائیورسٹی کونسل فنڈ صرف ان مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا جو حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 کے سیکشن 27(2) کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔کونسل جموں اور کشمیر کے دائرہ اختیار کے اندر ایسے کام انجام دے گی، جیسا کہ حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کی مختلف دفعات کے تحت ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز کو تفویض کیا گیا ہے۔کونسل، قومی بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی کے ساتھ مشاورت سے، ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت منظوری کے حصول کے لیے طریقہ کار کو مطلع کرے گی۔10۱رکنی کمیٹی میں5سرکاری اور اتنی ہی تعداد میں غیر سرکاری ممبران ہونگے۔ کونسل میں چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں کشمیر،محکمہ جنگلات و ماحولیات کے نمائندے،محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے نمائندے اور محکمہ زرعی پیدوار کے نمائندے ممبران ہونگے،تاہم یہ نمائندے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے سے کم مرتبہ کے نہیں ہونگے۔آرڈر کے مطابق5غیر سرکاری ممبران میں معروف وائلڈ لائف ماہر اور سابق آئی ایف ایس افسر ڈاکٹر سی ایم سیٹھ، حیاتنی تنو ع کے ماہر اور سابق آئی ایف ایس افسر اوم پرکاش شرما، شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کشمیر میں شعبہ فارسٹری کے سربراپ اور حیاتیاتی تنوع کے ماہر پروفیسر سجاد احمد گنگو،کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ باٹنی کے پرفسیر اڈاکٹر انظر احمد کھورو اور جموں یونیورسٹی میں شعبہ باٹنی کے پروفیسر و مشروم ڈیورسٹی کے ماہر پروفیسر یشاپال شرما ممبران ہونگے۔ اس کونسل مین غیر سرکاسری ممبران کی مدت معیاد3برس ہوگی۔