سرینگر//امامیہ فیڈریشن کشمیر کے ترجمان نے کشمیری مسلمانوں کی سب بڑی عبادت گاہ مرکزی جامع مسجد سرینگر کو عید کے روز بند کرنے اور میرواعظ کشمیر میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کرکے ان کی منصبی فرائض پر قدغن عائدکے جانے کے عمل کو یہاں کے عوام کی مذہبی ازادی سلب کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ ریاستی انتظامیہ کے اس طرح کے اقدامات سے یہاں کے عوام میں بے چینی پیدا ہونا قدرتی بات ہے۔تر جمان نے کہا کہ حکومت کو یہاں کے عوام کے مزہبی جزبات کا احترام ملحوظ نظر رکھنا چاہے اور حالات کی بہتری کا دعوی اگر صیح ھے تو اس طرح کے اقدامات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جاری کردہ امامیہ فیڈ ریشن کشمیر۔
حکومت نے بھدرواہ میں تاریخی رتن گڈھ قلعہ کی بحالی کیلئے10 کروڑ روپے کی منظور ی دِی
آسام: سیلاب سے 13 اضلاع میں 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر، اموات کی تعداد 98 تک پہنچ گئی
’ہم بدعنوان سسٹم کا مقابلہ محبت سے کریں گے، نفرت اور تشدد سے نہیں‘، راہل گاندھی کا طلبا و نوجوانوں سے خطاب
’اب تو اس تالاب کا پانی بدل دو، یہ کمل کے پھول کمہلانے لگے ہیں‘، اتراکھنڈ کی عوام سے کھڑگے کی اپیل
سپریم کورٹ کے معروف وکیل ایڈووکیٹ محمد نور اللہ راشٹریہ جنتا دل اقلیتی سیل، دہلی کے ریاستی صدر نامزد
چین سے ہندوستان کی درآمدات میں گزشتہ 5 سال کے دوران 39 فیصد کا اضافہ، حکومت نے راجیہ سبھا میں فراہم کی معلومات
اڑتے مسافر طیارے میں ایمرجنسی گیٹ کھولنے کی کوشش، کیرالہ پولیس نے مسافر کے خلاف درج کیا کیس
افغانستان نے ’عالمی کپ 2027‘ کے لیے کیا کوالیفائی، آئرلینڈ کے لیے راہ ہوئی دشوار
ہماچل پردیش: چمبا ضلع میں پرائیویٹ بس بے قابو ہوکر حادثے کا شکار، 7 افراد کی موت، 11 زخمی
غزہ میں 300 دنوں میں 300 بچے ہلاک: یونیسیف










