سری نگر//حکومت جموںوکشمیر کے لوگوں کو سستی طبی صحت سہولیات فراہم کرنے ، صحت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے اور اَپ گریڈیشن کے لئے متعدد اِصلاحی اَقدامات کر رہی ہے۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ طبی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دے کر نئے اور صحت مند جموںوکشمیر کے خواب کو پورا کر رہی ہے۔جس میںپانچ نئے میڈیکل کالج ، دوایمز، تقریباًایک ہزار ہیلتھ کیئر اینڈ ویلنس سینٹر، پانچ نئے نرسنگ کالجوں کے ساتھ ساتھ بی ایس سی پیر امیڈیکل کورسوں کا آغاز او رمیڈیکل نشستوں میں صد فیصد سے زیادہ اِضافہ ، طبی نگہداشت شعبے کی ترقی اور پیش رفت میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔محکمہ صحت نے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانے اور اس سطح پر ماہرین تیار کرنے کے لئے اضلا ع کے نئے اور پرانے میڈیکل کالجوںمیں نیشنل بورڈ کو رسز کا ڈپلوما بھی شروع کیا ہے جس سے کم سے کم 250نشستیں بڑھ جائیں گی ۔ حال ہی میں جی ایم سی سری نگر میں ایم ڈی سائیکاٹری کی نشستوں میں بھی اِضافہ کیا گیا ہے ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں ایم ڈی ( نفسیات ) کی نشستوں میں 8 سے 12 تک کا اِضافہ نیشنل میڈیکل کمیشن ( این ایم سی ) کی منظوری کے بعد ذہنی طبی نگہداشت کو فروغ دے گا۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ گذشتہ برس ایم بی بی ایس کی نشستیں 500 سے بڑھا کر 1,100 کی گئی تھیں۔ اِس میں تقریباً 111مزید ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس نشستیں اور اِی ڈبلیو ایس کے تحت 50 پی جی نشستیں منظور کی گئی ہیں۔ اِس کے علاوہ ڈینٹل پی جی کی 14نشستوں اور 16 شعبوں میں 225 ڈی این بی نشستوں کی بھی منظوری دی گئی ۔نو کورسوں میں تقریباً600 پیرا میڈیکل نشستیں منظور کی گئیں۔یہ فیکلٹی ان کے تجربے ، اشاعت اور جی ایم سی سری نگر میں دستیاب دیگر بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ ( ایم اے آر بی ) کی رِپورٹ کی پیروی کرتا ہے ۔ نئی نشستوں کے داخلے تعلیمی سال 2022-23 ء سے شروع ہوں گے ۔ممبر / صدر ایم اے آر بی نیشنل میڈیکل کمیشن نے کہا،’’ ایم اے آر بی نے تعلیمی سال 2022-23 ء کے لئے ایم ڈی (نفسیات) کی نشستوں میں اضافے کے لئے کشمیر یونیورسٹی کے تحت جی ایم سی سری نگر میں دستیاب انفراسٹرکچر سمیت فیکلٹی، ان کے تجربے، اشاعت اور دیگر تدریسی سہولیات کے بارے میں 16؍ جولائی کو تشخیص کار کی رپورٹ کا جائزہ لیا۔این ایم سی نے جی ایم سی سے کہا کہ وہ این ایم سی کے اَصولوں کے مطابق تدریسی اور غیر تدریسی عملے ، عمارتوں ، آلات او رہسپتال سہولیات کے لحاظ سے تمام بنیادی ڈھانچے کی سہولیات فراہم کرے۔










