یکم جنوری کوسری نگرمیں پُرامن احتجاج ،سفارشات کو نافذ کیا گیا تو جموں و کشمیر میں بحران مزید گہرا ہو جائے گا:پی ے جی ڈی
سری نگر// پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ نے منگل کو کہا کہ جموں اور کشمیر پر حد بندی کمیشن کی سفارشات کو’’تفرقہ انگیز،تقسیم کرنے والی اور ناقابل قبول‘‘قرار دیتے ہوئے اعلان کیاکہ یکم جنوری کو سری نگر میں پرامن احتجاج کیا جائے گا۔نئی دہلی میں حدبندی کمیشن کی میٹنگ کے ایک روز بعدسرمائی راجدھانی جموں میں نصف درجن سیاسی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم ’پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ‘PAGDکے لیڈران کی ایک اہم میٹنگ الائنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پرمنعقد ہوئی ،جس میں پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی سمیت کشمیر اورجموںکے کئی لیڈران نے شرکت کی ۔جے کے این ایس کے مطابق پی اے جی ڈی کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ کے ترجمان محمدیوسف تریگامی نے حد بندی کمیشن کے مسودے کے بارے کہاکہ ہم نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک گیر مردم شماری کے مطابق حد بندی ہونی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ بی جے پی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو مرکزی دھارے میں لانا چاہتی ہے لیکن وہ کئی مسائل پر جلد بازی میں اسے الگ تھلگ کر رہی ہے اور جلدبازی سے لوگوں کے جذبات متاثر ہوں گے۔محمدیوسف تاریگامی نے ایک سول کے جواب میں کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ اگر سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑے تو بھی کچھ منطق ہونی چاہیے۔ پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ کے ترجمان محمدیوسف تاریگامی نے ڈاکٹر فاروق اورمحبوبہ مفتی کی موجودگی میں کہاکہ حدبندی کمیشن کی جانب سے اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافے اورالاٹمنٹ کی کوئی منطق نہیں۔انہوںنے کہاکہ ڈاکٹرفاروق عبداللہ،محمداکبرلون اور حسنین مسعودی وہاں (حد بندی کمیشن کی میٹنگ) بطور رکن پارلیمنٹ گئے۔ ہم نے کہا کہ یہ لوگوں کی خواہش کے مطابق نہیں ہے بلکہ جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کا ایک قدم ہے۔میٹنگ شروع ہونے سے پہلے، پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ کے ترجمان محمدیوسف تریگامی نے حد بندی کمیشن کے مسودے کو ’’تقسیم کرنے والا اور ناقابل قبول‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ جموں و کشمیر کو برادریوں اور خطوں کی بنیاد پر مزید تقسیم کر دے گا۔پیپلز الائنس برائے گپکاراعلامیہ کے ترجمان محمدیوسف تریگامی نے کہاکہ ’’ہم امن چاہتے ہیں اور کسی ادارے یا حکومت سے تصادم نہیں چاہتے۔ تاہم ہم پرامن طریقے سے لوگوں کے جائز حقوق کے دفاع کے لیے اپنی آواز بلند کریں گے اور حد بندی کمیشن کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کے خلاف یکم جنوری کو سری نگر میں پرامن مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ مسودہ سبھی لوگوں اور تمام برادریوں کو ناقابل قبول ہے۔ حد بندی کمیشن کی سفارشات پر،محمدیوسف تاریگامی نے کہا، ’’ہم پختہ رائے کے ساتھ ہیں کہ یہ (تجویز) تفرقہ انگیز ہے اور جموں و کشمیر میں تقسیم کو مزید گہرا کرے گی‘‘۔انہوں نے کہاکہیہ لوگوں کی بیگانگی کو بھی گہرا کرے گا اور ایک بہت بڑا خلا پیدا کرے گا جو جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور مجموعی طور پر ملک کے مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔پی اے جی ڈی کے ترجمان نے محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ میٹنگ میں لیڈروںے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے لوگوں تک پہنچ کر ’ہمارے درد‘کو اجاگر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر موقع اور ہر فورم کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملک کے عوام، سیاسی جماعتوں کے قائدین سمیت ان لوگوں تک پہنچائیں گے جو ہم سے متفق نہیں ہیں اور ان تک پہنچائیں گے کہ ہم اپنے حقوق کو پامال کرتے ہوئے کس تکلیف سے گزر رہے ہیں۔ جس کے ملک کے لیے بہت سنگین مضمرات ہیں۔محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ میٹنگ میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ حد بندی کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو کہ ’’ہمارے خیال میں تقسیم کرنے والی ہے اور عوام کے مفاد میں نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ ایسی مشق کے لئے آئینی فریم ورک، جو کہ مردم شماری کے مطابق آبادی ہے، کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔2019میں تنظیم نو کے قانون اور خصوصی حیثیت کی منسوخی کے خلاف سپریم کورٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے دائر درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے، تاریگامی نے کہا کہ ہم سب نے قومی مشق کے مطابق حد بندی کا مطالبہ کیا ہے۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں آئین اور قانون کام نہیں کرتے، پی اے جی ڈی کے ترجمان نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کو اپنی شرائط پر مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور ایسے فیصلے لے رہی ہے جو ’’قومی اتحاد کے لیے نقصان دہ ہیں اور لوگوں کی امنگوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر اس طرح کے فیصلے (حد بندی کی سفارش) کو نافذ کیا گیا تو جموں و کشمیر میں بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ وزیر اعظم خلا کو پر کرنے کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس طرح کے فیصلے نہ صرف خلیج کو مزید وسیع کریں گے بلکہ دلوں کو بھی توڑیں گے۔انہوں نے کہا اور پارلیمنٹرینز، حد بندی کمیشن اور تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ ’’ہماری آواز سنیں‘‘ اور ایسا نہ کریں۔محمدیوسف تاریگامی نے کہا کہ پی اے جی ڈی کسی ایک علاقے یا ایک کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ ’’تمام برادریوں، خطوں، ذیلی علاقوں، جموں، کشمیر اور لداخ‘‘کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے۔ ہم کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری قدم کی اجازت نہیں دیں گے۔










