JKJA organises one-day Refresher Training Programme

جوڈیشل اکیڈیمی سری نگر میں ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ پروگرام کا اِنعقاد

سری نگر//جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کے تحت جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس پنکج متھل ( سرپرست جے اینڈ کے جوڈیشل اکیڈیمی ) کی سرپرستی ، چیئرپرسن گورننگ کمیٹی جسٹس سندھو شرما کی رہنمائی میں گورننگ کمیٹی برائے جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی کے ممبران جسٹس جاوید اِقبال وانی اور جسٹس وسیم صادق نرگل نے جوڈیشل اکیڈیمی سری نگر میں صوبہ کشمیر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوںبشمول ڈیپوٹیشن پر موجود ججوں کے لئے’’جائز معاوضہ اور ایوارڈ کی عمل آوری سے متعلق اراضی کے حصول کے قوانین اور دفعات‘‘ پر ایک روزہ ریفریشر ٹریننگ پروگرام کا اِنعقاد کیا۔سابق جج جموںوکشمیر ہائی کورٹ جسٹس مظفر حسین عطار پروگرام میں ریسورس پرسن تھے۔ٹیکنیکل سیشن میں جسٹس مظفر حسین عطار نے شرکأ کو حصولِ اراضی سے متعلق قوانین کے کلیدی طریقہ کار کے پہلوئوں سے متعلق جانکاری دی اور اِس عمل میں منصفانہ معاوضہ ، بحالی ، آباد کاری اور دیگر بنیادی مسائل کے تصورات پر ’’ منصفانہ معاوضہ، بحالی اور آباد کاری ایکٹ 2013 ‘‘ کے تحت روشنی ڈالی۔اُنہوں نے اِس موضوع پر مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور ایوارڈ پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کے پہلوئوں کی بھی تفصیل سے وضاحت کی۔اِس سے قبل ڈائریکٹر جموںوکشمیر جوڈیشل اکیڈیمی شہزاد عظیم نے اَپنے تعارفی خطاب میں صنعتی اور شہری معیشتوں میں حصولِ اَراضی کے قوانین کی اہمیت پر زور دیا جہاں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور توسیع کے لئے سٹیٹ ایجنسیوں کو زمین حاصل کرنی پڑتی ہے ۔ اُنہوں نے لوگوں کو اِنصاف فراہم کرنے، معاشرے میں درست سماجی اور معاشی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے زمین کے حصول کے معاملات پر قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے عدلیہ کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔بعد میں ایک اِستفساری سیشن منعقد ہوا جس میں شرکأ نے موضوع کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا اور سوالات اُٹھائے جنہیں ریسورس پرسن نے تسلی بخش جوابات دئیے۔