جاوید اقبال ماوریؔ کے دو تصنیفات’’برزِخ راڑن مندنین گاش اور نوی دپتی‘‘ کی رسم اجرائی انجام دی گئی
سرینگر//جوئے ادب کاج ناگ کی جانب سے سے انوارنمنٹ حال ہندواڑہ میں ایک پروقار تقریب رونمائی منعقد کی گئی ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابقتقریب میں کنوینر کشمیر ایڈوائزری بورڈ ساہتیہ اکیڈیمی نیو دہلی اور سابقہ صدر شعبہ کشمیری کشمیر یونیورسٹی پروفیسر شاد رمضان ،سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل دورردشن آل انڈیا ،سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی ڈاکٹر رفیق مسعودی ،معروف برارڈ کاسٹر وادیب محمد امین بٹ ،سرپرست کلچرل ٹرسٹ کپواڑہ میر غلام رسول دردپوری، سابق صدر اوقاف ہندواڑہغلام رسول بانڈی ۔صاحب کتاب جاوید اقبال ماوری ؔ کے ہمراہ دیگر ادباء وشعراء اور سیول سوسائٹی سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس پُروقار تقریب میں نامور شاعر ،ادیب اور قلمکار جاوید اقبال ماوری کی دو تخلیقات شعری مجموعہ” برزِخ راڑن مندنین گاش اور نثری تخلیق ’’نوی دپتی ‘‘کی رسم رونمانی انجام دی گئی۔اس موقعہ پر پروفیسر شاد رمصان نے اپنے صدارتی خطبہ میں جاوید اقبال ماوری کو مبارک باد پیش کرت ہوئے کہا کہ تخلیقات وتصنیفات ایک ادیب کو سماج ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں ۔اس موقعہ ڈاکٹر رفیق مسعودی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے جاوید اقبال ماوری کے اس تخلیقی سفر کے آغاز پر ان کو مبارکباد دی اور کہا کہ موجودہ ادیبوں وشاعروں کی تخلیقات کو سامنے لانے کا تقاضا کررہا ہے ۔اس موقعہ پر صدمحمد امین بٹ نے اپنے منفرد انداز میں اپنے خیالات کااظہار کیا اور انہوں نے زور دیا کہ کشمیری زبان، ادب و ثقافت کو محفوظ رکھنے کیلئے ایسی تقریبات کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔اس موقعہ پر جاویداقبال ماوری نے اپنی تخلیقی سفر اورادبی زندگی کے بارے میں اپنے زرین خیالات کااظہار کیا ۔انہوں نے تمام شرکاء کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس تقریب رونمائی میں تشریف لاکر ہماری حوصلہ افزائی کی ۔










