غزہ میں جاری نسل کشی کو 9 ماہ گزر جانے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلآخر جنگ بندی کے منصوبے کی توثیق کردی ہے جس میں عہد کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں جارحیت ختم کی جائے۔
امریکی تجاویز کی حمایت میں منظور کیا جانے والا تین مراحل پر مشتمل یہ منصوبہ جس کے حق میں 15 رکنی سلامتی کونسل کے اراکین نے ووٹ دیا جبکہ اس موقع پر ایک رکن ملک روس غیر حاضر رہا۔ ان اراکین نے ’فوری طور پر جنگ بندی کی شرائط لاگو کرنے‘ کا مطالبہ کیا۔ اس قرارداد کی پاسداری کے سب پابند ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل کے حملے کے بعد سے سلامتی کونسل تذبذب کا شکار تھی کہ اس جنگ کو کیسے ختم کیا جائے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب سلامتی کونسل نے فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جوکہ اسرائیل کی جارحانہ زمینی اور فضائی کارروائیوں کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔
اس سے قبل سلامتی کونسل نے رمضان کے مہینے میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اسرائیل جنگ بندی سے انکاری تھا۔ دلچسپ طور پر سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی گزشتہ قراردادوں میں امریکا نے ویٹو کیا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نسل کشی میں مکمل طور پر اسرائیل کا ساتھ دے رہی تھی۔
البتہ یہ جنگ بندی کا مطالبہ بہت دیر سے سامنے آیا ہے کہ جب 38 ہزار مظلوم فلسطینی اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ غزہ کی 80 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ قرارداد نسل کشی کے خاتمے کے لیے امید کی کرن ہے۔ عمل درآمد کے حوالے سے ابہام کے باوجود اسے غزہ میں مستقل جنگ بندی کی جانب پیش قدمی کے معنوں میں لیا جاسکتا ہے۔
ایک ہفتے کے سلامتی کونسل کے سخت مذاکرات کے بعد قرارداد کو حتمی شکل دی گئی۔ چند اراکین کی جانب سے متن میں استعمال کی گئی زبان پر تحفظات (جس کا جھکاؤ اسرائیل کی جانب زیادہ نظر آیا) کے باوجود روس کے علاوہ سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ روس نے تجویز دی تھی کہ اس قرارداد میں ترمیم لائی جائے اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا جائے۔
چین نے اس موقع پر کہا کہ وہ قرارداد کی حمایت کرتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ جنگ ختم ہو اور یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے۔ اقوامِ متحدہ میں چینی مندوب نے کہا، ’ہمیں اب بھی خدشات ہیں کہ آیا فریقین جنگ بندی کی شرائط کو قبول کریں گے یا نہیں اور اس قرارداد پر آسانی سے عمل درآمد ممکن ہوگا یا نہیں‘۔
جنگ بندی کے متعلقہ منصوبے میں پہلا مرحلہ ابتدائی 6 ماہ کی جنگ بندی کی تجویز پیش کرتا ہے جس میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، غزہ کے گنجان علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور بےدخل فلسطینیوں کی اپنے علاقوں میں واپسی شامل ہے۔ اس کے لیے ’غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے‘ پر انسانی امداد کی تقسیم کی ضرورت ہے۔
منصوبے کے تحت دوسرے مرحلے میں دونوں فریقین کے درمیان ’دشمنی کے مستقل خاتمے‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ ’غزہ میں اب تک موجود تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بدلے میں‘ ہوگا۔










