جاوید ڈار نے سریہامہ اننت ناگ میں لیوینڈر اورارومیٹک فصلوں کیلئے سینٹر آف ایکسی لنس کا اِفتتاح کیا

اننت ناگ// وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی و الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے سریہامہ اننت ناگ میں لیوینڈر اورارومیٹک فصلوں کے سینٹر آف ایکسی لنس اِفتتاح کیا۔ یہ پروجیکٹ 371.62 لاکھ روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی مداخلتوں کے ذریعے لیوینڈر اور دیگر ارومیٹک فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا ہے۔اِفتتاحی تقریب میں ممبران اسمبلی ڈاکٹر بشیر احمد ویری، الطاف احمد وانی، ظفر علی کھٹانہ، عبدالمجید بٹ لارمی اور ایڈووکیٹ ریاض احمد خان کے علاوہ محکمہ زراعت اور متعلقہ محکموں کے سینئر اَفسران، ترقی پسند کسانوں اور کثیر تعداد می مقامی باشندوں نے شرکت کی۔وزیر موصوف نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر آف ایکسی لنس کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جس کا مقصد کسانوں کو جدید ٹیکنالوجیوں، سائنسی کاشت کے طریقوں، معیاری پودے لگانے کا مواد اور ماہرانہ تکنیکی رہنمائی تک رَسائی فراہم کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ سینٹر تربیت، مظاہرے اور صلاحیت سازی کا مرکز کے طور پر کام کرے گاجس سے کسان جدید زرعی طریقے اَپنا کر پیداوار اور آمدنی میں اِضافہ کر سکیں گے۔اُنہوں نے جموں و کشمیر میں لیوینڈر اور دیگر ارومیٹک فصلوں کی وسیع اِمکانات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ قیمت والی فصلوں کی طرف تنوع فارم کے منافع بڑھانے اور دیہی گھرانوں کے لئے دیرپا ذریعہ معاش کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت بہتر بنیادی ڈھانچے، تحقیق پر مبنی مداخلتوں، توسیعی خدمات اور بہتر منڈی روابط کے ذریعے زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔جاوید ڈار نے جاری ’’کھیت بچاؤ ابھیان‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے زرعی اراضی کے تحفظ اور اس کے بہترین اِستعمال کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کاشت کاروں پر زور دیا کہ وہ زیادہ قابل کاشت اور بارانی علاقوں کو پیداواری اِستعمال کے تحت لائیں اور خوشبودار و اَدویاتی فصلوں کی کاشت سے حاصل ہونے والے بے پناہ مواقع سے فائدہ اُٹھائیں۔اُنہوںنے زراعت اور باغبانی محکموں کی طرف سے کسان کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور بااِختیار بنانے کے لئے عملائی جا رہی متعدد اہم سکیموں اور اقدامات کو بھی اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت پیداوار بڑھانے، باغبانی کی ترقی کو فروغ دینے، زرعی میکانائزیشن کو آسان بنانے، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجیوں کے اِستعمال کی حوصلہ افزائی کرنے والی مداخلتوں کے ذریعے کسانوں کو جامع مدد فراہم کر رہی ہے۔وزیر موصوف نے زراعت کو ایک دیر پا اور منافع بخش شعبے میں تبدیل کرنے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی آمدنی کوبہتر بنانے اور جموں و کشمیر میں دیہی کمیونٹیوں کی سماجی و اِقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔تقریب کے دوران وزیر زرعی پیداوار نے زراعت اور اس سے منسلک محکموں کے قائم کردہ مختلف سٹالوں کا معائینہ کیا جن میں جدید ٹیکنالوجیوں، کامیاب زرعی ماڈلوں، باغبانی مداخلتوں اور کسان مرکوز سکیموں کی نمائش کی گئی تھی۔ اُنہوں نے کسانوں اور نمائش کنندگان سے بات چیت کی اور جدید زرعی طریقوں اور حکومتی فلاحی پروگراموں کے بارے میں بیداری کو فروغ دینے میں ان کی کوششوں کو سراہا۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر زراعت کشمیر، ڈائریکٹر باغبانی کشمیر، ڈائریکٹر اَنفورسمنٹ جموں و کشمیر، زراعت اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران، کسان تنظیموں کے نمائندے اور مقامی کمیونٹی کے اَرکان موجود تھے۔