سری نگر//جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے کیموہ گاؤں میں مشتبہ ہیپاٹائٹس کے پھیلنے کی وجہ سے ایک اور کمسن بچی کی موت واقع ہوگئی جبکہ کئی دیگر نصف درجن متاثر ہوئے ہیں۔اس دوران ساری صورتحال کی وجہ سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔انتظامیہ اور متعلقہ محکمے علاقے میں موجود ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق قیموہ کے ترکہ ٹچلو گاؤں میں ہیپاٹائٹس اے کے مشتبہ وباء نے ایک اور نابالغ بچی کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کی وجہ سے وہ لقمہ اجل بن گئی ہے اس دوران اس وبا سے اب تک علاقے میں دو بچیاں لقمہ اجل بن گئی ہے دو دن پہلے ایک لڑکی، جسے سری نگر کے جے وی سی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، کی موت ہو گئی تھی جب کہ ایک درجن سے زیادہ میں انفیکشن کی علامات پائی گئی تھیں۔اتوار کو جے وی سی سری نگر کے اسپتال میں دم توڑ جانے والے نابالغ لڑکے کی شناخت نیہان الطاف (7) ولد الطاف ڈار کے طور پر ہوہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ “یہ انفیکشن ممکنہ طور پر گاؤں میں پینے کے پانی کی غیر محفوظ فراہمی کی وجہ سے پھیل گیا ہے۔”دریں اثنا، جل شکتی اور طبی ٹیمیں نمونے لینے اور حقائق کی تصدیق کے لیے زمین پر موجود ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ علاقے میں اب تک لقمہ اجل بنے والی دونوں بچیاں ایک ہی سکول میں زیر تعلیم ہے۔دوسری موت کے بعد علاقے میں سخت خوف و تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم سرکاری سطح انتظامیہ نے اس وبا کا اصلی وجہ جانے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔اس دوران انتظامیہ نے مٹھرک ہو کر علاقے میں کئی ٹیموں کو روانہ کیا ہے ۔جبکہ محکمہ جل شکتی اور صحت کے علاوہ باقی محکموں کے افسران نے علاقے کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔










