kulgam encounter

جنوبی کشمیر کے کولگام اور ڈورو میںفورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تصادم آ رائیاں

2غیر ملکی جیش کمانڈروں سمیت 6ملی ٹینٹ اور فوجی اہلکار جاں بحق، 2 اہلکار زخمی

سری نگر//جنوبی کشمیر کے مرہامہ کولگام اور ڈور اننت ناگ کے نوگام علاقے میں شبانہ تصادم آرائیوں میں 2غیر ملکی جیش جنگجوئوں کمانڈروں سمیت6ملی ٹینٹ اور1فورسز اہلکار مارا گیا ہے ۔پولیس نے بتایا مارے گئے جنگجوئوں میں 2 پاکستانی جیش جنگجو بھی شامل ہے ۔اس تصادم آرائیوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک فوجی اہلکار فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک اہلکار بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ہے ۔ادھر انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجے کمار نے بتایا کشمیر میں تیس سال کے دوران پہلی بار مقامی جنگجوئوںکی تعداد100سے کم تک پہنچ گیا ہے ۔دونوں تصادم آرئیوں میں مارے گئے جنگجو کے قبضے سے ایک ایم پی 4رائفل سمیت دیگر اسلحہ اور گولی بارود ضبط کیا گیا ہے ۔نمائندے کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام قصبہ سے چند کلو میٹر دور مر ہامہ نامی گائوں میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کے حوالے سے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد بدھ کی شام فوج اور پولیس نے اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کولگام، 9RRآر آر اور 18 بٹالین سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر شام کے وقت آپریشن شروع کیا اور تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔پولیس نے بتایا رات کے نوبجے قریب طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ پولیس کے مطابق گولیوں کے تبادلے میں ابتدائی طورایک جنگجو مار گیااور اس کے پھر ایک بار طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس میں مزید 2ملی ٹینٹ مارے گئے اس تصادم آرائی میں ایک پاکستانی جیش جنگجوئوں شاہد سمیت کل 3 ملی ٹینٹ جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ دیگر ملی ٹنٹوں کی فوری طور شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے؛ادھر ضلع اننت ناگ کے ڈورو علاقے میں بھی بدھ کی شام ایک تصادم آرائی شروع ہوئی ہے جس میں ایک غیر ملکی سمیت3ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں ۔پولیس نے بتایا کہ انہیں چھانہ محلہ نوگام شاہ آباد ڈورومیں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد ملی ٹینٹوں کیخلاف فوج کے19آر آر،164سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے آپریشن شروع کر کے تلاشی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ گائوں کی تلاشی کارروائی شروع کی گئی اورسات بجکر 20منٹ پر جونہی مشترکہ تلاشی پارٹی ممکنہ جگہ کی طرف جانے لگی ، تو ملی ٹینٹوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر حملہ کیا۔اس موقعہ پر طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس میں فوج کے دو اہلکارروہت یادو اور اشانت کمار اور ایس او جی کانسٹیبل دیپک کمار زخمی ہوئے۔دیپک کمار کے سر میں گولیاں لگی ہیں اور اسکی حالت انتہائی نازک ہے۔ جبکہ دو فوجی اہلکاروںکی ٹانگوں میں گولیاں پیوست ہوئی ہیں۔ تینوں اہلکاروں کو فوج کے بادامی باغ اسپتال میں میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعد میںسپاہی جسبیر سنگھ زخموں کی تاب نہ لا کر دم، توڑ بیٹھاہے۔پولیس نے کہا فائرنگ کے بعد کچھ فائرنگ ہوئی اور ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ سیکورٹی فورسز نے گائوں کی مکمل ناکہ بندی کردی اور روشنیوں کا انتظام کر کے آپریشن کو صبح تک کیلئے ملتوی کر دیا ہے اس دوران جمعرات کی صبح یہاں پھر ایک باری تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے جس میں 3جنگجوئوں کی لاشوں کو برآمد کیا گیا ہے ۔پولیس نے بتایا مارے گئے جنگجوئوں میں2مقامی جبکہ ایک غیر ملکی ہے اور تینوں جیش محمد عسکری تنظیم سے وابستہ تھے۔آئی جی پی کشمیر نے بتایا اسی گرپ نے زیون علاقے میں پولیس بس پر حملے میں ملوث تھے ۔انہوں نے مارے گئے جیش جنگجوئوں کی شناخت مفتی الطاف،عرف پیر الطاف حیسن، ایساس،رئیس ساکن نتھی پورہ ڈورواورنثار احمد کھانڈے دود وانگن ڈورو کے طور کی ہے۔پولیس کے مطابق دونوں سال 2020سے علاقے میں سرگرم تھے ہے۔پولیس نے بتایا الطاف اسے قبل بھی ایک بار گرفتار ہوا تھا تاہم بعد میں انہوں نے سال2020میں پھر ایک بارشمولیت اختیار کی ہے جبکہ دوسری مقامی جنگجو کی شناخت نثار احمد کھانڈے کے طور کی گئی ہے۔۔انہوں نے بتایا کہ مزکورہ جیش کمانڈر جنوبی کشمیر میں 2017سے سرگرم تھا جس کا مقصد سیکورٹی فورسز پہر حملے کرنا تھا۔وجے کمار نے بتایا دسمبر میں ابھی تک 24جنگجوئوں کو مارا گیا ہے جن میں5پاکستانی ہیں جن کے قبضے سے ایم 4رائفل برآمد کئے گئے ہیں۔اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے بتایا کشمیر میں گذشتہ تین دہائیوں کے دوران پہلی بار سرگرم مقامی جنگجوؤں کی تعداد سو سے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جنگجوؤں کی کل تعداد بھی دو سو سے کم ہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سال2021 کے دوران 128 نوجوانوں نے بندوق اٹھائے جن میں سے73 مختلف تصادم آرائیوں کے دوران مارے گئے جبکہ 17 کو گرفتار کیا گیا اور 39 کے آس پاس ابھی بھی سرگرم ہیں۔انہوں نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے قاضی گنڈ کے وزر علاقے میں آر آر کے 2 سیکٹر میں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’کشمیر میں جنگجوؤں کی تعداد دو سے بھی کم ہے اور تاریخ میں پہلی بار مقامی جنگجو کی تعداد سو سے کم ہے جو85 یا 86ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ملی ٹنٹ پہلے بالائی علاقوں میں بیٹھے تھے اور موسم سرما شروع ہونے کے بعد وہ نیچے آئے ہیںانہوں نے کہا تصادم آرائیوں میں غیر ملکیوں کا ماراجانا ہمارے لئے اچھا ہے.